متاثرین سوات و مالاکنڈ کے لیے منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے امدادی اقدامات

منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن نے متاثرین سوات و مالاکنڈ ڈویژن کے لیے ایک خیمہ بستی نوشہرہ روڈ ( مردان) جبکہ دوسری بستی جلالہ میں قائم کر دی ہے۔ علاوہ ازیں مردان میں 15 منہاج رہائشی یونٹس بھی قائم کر دیئے گئے ہیں۔ اسی طرح نوشہرہ میں 35 منہاج رہائشی یونٹس قائم کیے گئے ہیں۔ ان منہاج خیمہ بستیوں اور منہاج رہائشی یونٹس کے ذریعے مستفید ہونے والے خاندانوں کی تعداد 176 جبکہ استفادہ کرنے والے افراد کی تعداد 1090 تک پہنچ چکی ہے۔ یہ افراد منہاج خیمہ بستیوں اور منہاج رہائشی یونٹس میں مقیم ہیں اور ان کی مکمل کفالت کی جا رہی ہے۔ خیمہ بستیوں میں مقیم افراد کو پنکھے، روم کولر، واٹر کولر، جوتوں اور پہننے کے کپڑوں کے علاوہ اشیاء خورد و نوش مثلاً بسکٹ، جوس، دودھ کے پیکٹ وغیرہ بھی باقاعدگی سے فراہم کیے جاتے ہیں۔

منہاج خیمہ بستی کو ایک ماڈل خیمہ بستی بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ جس میں دیگر NGO'sکے تحت قائم خیمہ بستیوں کے برعکس تینوں اوقات میں رہائشی افراد کو کھانا پکا کر باعزت طریقے سے فراہم کیا جاتا ہے جبکہ ان افراد کو دو اوقات میں چائے بھی فراہم کی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں بچوں کے دودھ وغیرہ کو گرم کرنے کے لیے الگ سے کچن مہیا کیا گیا ہے۔ پانی کی کمی کو دور کرنے کے لیے خیمہ بستی میں تین واٹر پمپس کی تنصیب کی گئی ہے جبکہ جدید Toiletsبھی بنوائے گئے ہیں۔

ایک اور اہم قدم منہاج خیمہ بستی مردان میں منہاج خیمہ سکول کا قیام ہے جس میں زیر تعلیم بچوں کو منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کی طرف سے یونیفارم ،بکس اور نوٹ بکس کی فری فراہمی کی گئی ہے۔

متاثرین کے علاج معالجہ کے لیے منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن نے منہاج ویلفیئر ہسپتال قائم کیا ہے اور ہر خیمہ بستی اور منہاج رہائشی یونٹ میں منہاج فری ڈسپنسری قائم کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف کی 15 رکنی ٹیم کراچی سے ڈاکٹر ایس۔ایم۔ضمیر کی قیادت میں تمام بڑی خیمہ بستیوں میں منہاج میڈیکل کیمپس لگائے گی۔ منہاج خیمہ بستی میں ایک ہومیو پیتھک کلینک بھی قائم کیا گیا ہے۔ متاثرین کے لیے منہاج ایمبولینس سروس بھی فراہم کی گئی ہے۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی ہدایات اور احکامات کی روشنی میں منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن وطن عزیز کے ہجرت کرنے والے متاثرین سوات و مالاکنڈ کی خدمت اور ان کے لیے امدادی سرگرمیوں کو اس وقت تک جاری رکھے گی جب تک کے ہمارے یہ بھائی باعزت طور پر دوبارہ اپنے گھروں کو واپس نہیں چلے جاتے۔