منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن

قیام کے مقاصد

منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن ایک بین الاقوامی فلاحی و رفاہی تنظیم ہے جو معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کی منفعت کیلئے ہر شعبہ ہائے زندگی میں مدد و تعاون فراہم کرنے کیلئے پاکستان سمیت پوری دنیا میں کوشاں ہے۔ منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن قوم کو جہالت، بیماری، غربت، بے روزگاری، محرومی اور قدرتی آفات اور بحرانوں سے نجات دلانے کیلئے عملی جدوجہد میں مصروف عمل ہے۔

منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن امداد باہمی کے تصور کے تحت معاشرے کے خوشحال طبقے کے ساتھ ملکر متاثرہ و بدحالی میں مبتلا طبقے کے افراد میں تعاون، اخوت، عزت و احترام اور انہیں خوشحال زندگی گزارنے کے لیے اعانت فراہم کرتی ہے۔ اس تصور کے تناظر میں تحریک منہاج القرآن کے بانی و سرپرست اعلیٰ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے 17 اکتوبر 1989ء کو منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی۔

منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی سرپرستی میں معاشرے میں دکھی انسانیت کی خدمت اور مجبور و محروم طبقے کی ہر ممکن مدد کیلئے کوشاں رہتی ہے۔ منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن تعلیم، صحت اور فلاح عامہ کے میدانوں میں نمایاں خدمات سر انجام دہے رہی ہے۔

منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کا نعرہ

ہمارا عزم ہمارا کا م۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تعلیم، صحت اور فلاح عام

تعلیم کے میدان میں 573 پرائمری اور ماڈل اسکول 18 کالجز اور ایک بین الاقوامی چارٹر یونیورسٹی چل رہی ہے۔ پاکستان میں منہاج ایجوکیشن سسٹم کے تحت چلنے والے تعلیمی ادارہ جات کا کسی بھی NGO کے مقابلے میں ایک وسیع نیٹ ورک ہے جس میں لاکھوں طلبہ و طالبات زیور تعلیم سے آراستہ ہو رہے ہیں۔

صحت کے میدان میں پورے ملک میں 107 فری ڈسپنسریز اور 24 شہروں میں ایمبولینس سروس چل رہی ہے جبکہ فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد بھی آئے دن عمل میں لایا جا رہا ہے۔ فلاح عام کے منصوبہ جات میں یتیم و بے سہارا بچوں کی تعلیم و تربیت و کفالت کیلئے ادارہ آغوش قائم ہے جسکی شاخیں پورے ملک میں قائم کی جارہی ہیں۔

غریب اور نادار گھرانوں کی ایسی بچیوں کی اجتماعی شادیاں کرائی جاتی ہیں جن کے والدین رشتہ طے کرنے کے باوجود اپنی مالی مجبوری کی بناء پر ان کو رخصت نہیں کرسکتے۔ پاکستان کے ان علاقوں میں جہان پانی کی کمی ہے منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن نے ایسے 1500 مقامات طے کیے ہیں جن میں سے 764 مقامات پر واٹر پمپس انسٹال کر دیئے گئے ہیں۔ قدرتی آفات سے متاثرہ علاقوں میں بھی منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن خدمت میں پیش پیش رہی ہے۔

بنیادی مقاصد

  1. بامقصد، معیاری اور سستی تعلیم کو فروغ دینا۔
  2. غریب اور مستحق طلبہ کیلئے وظائف کا اہتمام کرنا۔
  3. صحت کی بنیادی ضروریات سے محروم افراد کیلئے معیاری اور سستی طبی امداد کی فراہمی کرنا۔
  4. خواتین کے حقوق کی بحالی اور بہبود کیلئے منصوبہ جات کا قیام عمل میں لانا۔
  5. بچوں کے حقوق و بہبو د کی بحالی کیلئے منصوبہ جات کا قیام عمل میں لانا۔
  6. یتیم اور بے سہارا بچوں کی تعلیم و تربیت اور کفالت کا اہتمام کرنا اور ان کو معاشرے کا مفید شہری بنانا۔
  7. قدرتی آفات میں متاثرین کی امداد و بحالی کیلئے اقدامات کرنا۔
  8. خود روزگار اسکیم (مائیکروفنانس اسکیم) کے ذریعہ سے نوجوانوں کیلئے روزگار کا اہتمام کرنا۔
  9. پسماندہ علاقوں میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کا اہتمام کرنا۔
  10. بیت المال کے ذریعے مجبور اور مستحق افراد کی مالی اعانت کرنا۔
  11. غریب اور نادار گھرانوں کی بچیوں کی اجتماعی شادیوں کا اہتمام کرنا۔

بنیادی اہداف

تعلیم

  1. خواندگی سنٹرز اور پرائمری اسکولز کا قیام۔
  2. 1000 ماڈل اسکولز و اسلامک سنٹرز اور کالجز کا قیام۔
  3. 05 صوبائی سطح پر یونیورسٹیز کا قیام۔
  4. 01 بین الاقوامی چارٹر یونیورسٹی کا قیام۔
  5. غریب مستحق طلبہ و طالبات کیلئے تعلیمی وظائف کا انتظام۔

صحت

  1. ملک کی ہر یونین کونسل میں فری ڈسپنسریز کا قیام۔
  2. ہر یونین کونسل میں ماہانہ بنیادوں پر فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد۔
  3. ملک کے تمام بڑے شہروں اور 500 تحصیلوں میں منہاج ایمبولینس سروس کا قیام۔
  4. ملک کی تمام تحصیلوں میں منہاج ہاسپیٹلز کا قیام۔
  5. ملک بھر میں بلڈ ڈونیشن سوسائٹیز کا قیام۔

فلاح عام

  1. 500 یتیم و بے سہارا بچوں کیلئے مرکزی سطح پر ادارہ آغوش کا قیام۔
  2. ملک کے تمام بڑے شہروں میں یتیم و بے سہار ابچوں کی تعلیم و تربیت اور کفالت کیلئے ادارہ جات (آغوش) کا قیام۔
  3. فراہمی آب کے منصوبہ میں 5000 مقامات پر جہاں پانی کی کمی ہے واٹرپمپس کی انسٹالیشن۔
  4. قدرتی آفات زلزلہ، سیلاب، بارش اور دہشت گردوں سے متاثرہ علاقوں میں ایمرجنسی ریلیف فنڈز کا قیام اور بحالی کیلئے فی الفور عملی اقدامات کرنا۔
  5. بے روزگار نوجوانوں کیلئے خود روزگار اسکیم (Micro Finance Scheme) کے ذریعے بلاسود قرضے فراہم کرنا اور انکی کاروبار میں معاونت کرنا۔

تعلیم (EDUCATION)

تعلیم سب کیلئے (EDUCATION FOR ALL)

تعلیم منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کی پہلی ترجیح ہے۔ ایک عظیم تعلیمی انقلاب کے ذریعے غیر حکومتی سطح پر منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن رسمی اور غیر رسمی تعلیم (Formal & Informal Education) اور تعلیم بالغاں (Adult Education) کے ذریعے پورے ملک میں شرح خواندگی کے اضافے کیلئے کوشاں ہے۔ منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کی پہلی ترجیح کے طور پر تعلیم (Education for All) ہے۔

ملک کا جاری تعلیمی نظام دور حاضر کی ضروریات اور تقاضوں کے مطابق ترقی دینے کیلئے نمایاں خصوصیات سے عاری ہے۔

شرح خواندگی : قائد اعظم کے فرمان کے مطابق کسی قوم کے لئے خطہ ارض کا مالک بننے اور حکومت چلانے کیلئے کم ازکم تین بڑے ستون ہیں :

  1. تعلیم Education
  2. تجارت Trade
  3. دفاع Defance

ملک کی اقتصادی اور سماجی پسماندگی کی بنیادی وجہ خواندگی کی کم شر ح اور تعلیم کے معیار کی پستی ہے۔ قیام پاکستان سے اب تک شرح خواندگی میں اضافے اور فروغ تعلیم کیلئے جتنے بھی اقدات کئے گئے اور جو تجربات مختلف اسکیموں کے نام پر ہوئے وہ ناکام ثابت ہوئے اور ملک میں شرح خواندگی بڑھنے کی بجائے کم ہوتی چلی گئی۔ قیام پاکستان سے اب تک کسی دور حکومت نے تعلیم کو وہ ترجیح نہیں دی جسکی ملک و قوم کو ضرورت تھی، یہی وجہ ہے کہ ہمارا ملک اس وقت شرح خواندگی کے اعتبار سے دنیا کا 181واں ملک ہے۔ شرح خواندگی رسمی و غیر رسمی تعلیم کے جتنے بھی منصوبے بنے وہ بیورو کریسی کی نذر ہوتے گئے۔ بین الاقوامی اعداد و شمار کے مطابق ملک کی شرح خواندگی 26 فیصد سے بھی کم ہے۔ مگر حکومتی اداروں کے مطابق 09-2008 تک شرح خواندگی پورے ملک میں 46فیصد بتا رہے ہیں۔ حالانکہ 1998ء کی مردم شماری رپورٹ میں ملک کی آبادی بڑھنے کی سالانہ شرح 2.6 فیصد ہے۔ 67 فیصد آبادی دیہاتی اور 33فیصد شہری ہے۔ بچوں کی شرح 31.2 فیصد بتائی گئی جبکہ بچوں کی پیدائش کی شرح نمو 2.4فیصد اور شرح اموات 9.2 فیصد فی ہزار بتائی گئی، حکومتی اعداد و شمار کے مطابق 1998ء میں ملک کی شرح خواندگی 26 فیصد بتائی گئی، اُس وقت کل آبادی 135ملین (تیرہ کروڑ پچاس لاکھ) بتائی گئی۔ حکومتی اعداد و شمار 1998ء کی مردم شماری کو اگر درست مان لیا جائے تو آبادی کی سالانہ ا ضافے کی شرح 2.6فیصد کے اعتبار سے 2008ء میں ملک کی آبادی 174.5 ملین (سترہ کروڑ پنتالیس لاکھ) ہو چکی ہے۔ بچوں کی شرح کے تناسب سے اس وقت ملک میں 5.44 ملین (پانچ کروڑ چوالیس لاکھ) بچے موجود ہیں۔ شرح خواندگی میں ہر سال حکومتی اقدامات کے باعث 28 لاکھ افراد خواندہ بنتے ہیں تو اسطرح پورے ملک میں 2008ء تک 6 کروڑ 31 لاکھ افراد خواندہ ہیں اور یہ شرح خواندگی کا تناسب 36.15فیصد بنتا ہے۔ اسکا مطلب یہ ہوا کہ 17 کروڑ 45 لاکھ کی آبادی میں صرف 6 کروڑ 31 لاکھ افراد پڑھے لکھے ہیں اور ملک کے 11 کروڑ 14 لاکھ افراد ناخواندگی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ جس قوم کے 64فیصد عوام ناخواندگی کی زندگی بسر کر رہے ہوں وہ قوم دنیا میں کس طرح بلند مقام حاصل کر سکتی ہے ؟

پاکستان کی 174 ملین آبادی میں سے 27.9 ملین (2 کروڑ 79 لاکھ 20 ہزار) بچے پرائمری تعلیم کے حصول کیلئے بھیجے جاتے ہیں۔ جس میں سے آدھے 14 ملین بچے پرائمری تعلیم مکمل کرنے سے قبل ہی اسکول چھوڑ جاتے ہیں، اس ملک میں اب تک 26.5 ملین (2 کروڑ 65 لاکھ) بچوں نے ابھی تک اسکول کا دروازہ تک نہیں دیکھا۔

والدین کی مفلسی و ناداری

ملک میں 10 ملین بچے پانچویں کلاس پاس کرنے سے قبل ہی تعلیم ادھوری چھوڑ جانے اور 24 ملین بچوں کی اسکول تک رسائی حاصل نہ کرنے کی اصل وجہ والدین کی ناداری اور مفلسی ہے جو اپنے بچوں کے تعلیمی اخراجات پورا کرنے سے قاصر ہیں۔ مفلوک الحال اور انتہائی تنگ دست افراد کی تعداد ہمارے ملک میں 1998ء کی مردم شماری کے مطابق 36 ملین (3 کروڑ 60 لاکھ) تھی، 2008ء میں یہ بڑھکر 94 ملین ہو گئی ہے کیونکہ پچھلے دس سالوں میں غربت بڑھنے کی سالانہ شرح 3فیصد سے 6فیصد بتائی جاتی ہے۔ حالانکہ ملک میں پرائمری تعلیم لازمی قرار دی گئی ہے۔ حکومتی اسکولوں کے مقابلہ میں پرائیویٹ اسکولوں کی تعداد 60فیصد ہے۔ 60فیصد تعلیم کا ذمہ نجی سیکٹر اٹھا رہے ہیں لیکن حکومتی غیر معیاری تعلیم کی وجہ سے شہری علاقوں پر عوام کا اعتماد پرائیویٹ اسکولوں پر ہوتا ہے۔ مفلس اور نادار طبقہ اپنے بچوں کو معیاری اسکولوں میں نہیں پڑھا سکتا۔ اور جو 40 فیصد بچے سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں تعلیم مفت ہونے کے باوجود وہ کتابوں کی قیمتیں، اسٹیشنری، اسکول یونیفارم، ٹرانسپورٹ کا کرایہ وغیرہ والدین کی استطاعت سے باہر ہوتا ہے۔ والدین گھریلو بجٹ پورا کرنے کیلئے بچوں کو گھروں پر کسی مٹھائی فروش، کسی کلینک یا دوکاندار اور کسی دفتر میں ملازمت پر لگا دیتے ہیں۔ جبکہ 64فیصد عوام جو کہ ناخواندہ ہے جس کے پیش نظر تعلیم کی کوئی اہمیت نہیں۔

منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن ملک کے تعلیمی نظام کو دور حاضر کی ضروریات اور تقاضوں کے مطابق ترقی دینے کیلئے کوشاں ہے۔

منہاج ایجوکیشن سوسائٹی (MINHAJ EDUCATION SOCIETY) : منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن پورے ملک میں شرح خواندگی میں اضافے اور معیار تعلیم کو بلند کرنے کیلئے تعلیمی ادارہ جات کیلئے فنڈ مہیا کرتی ہے۔ تعلیمی نظم و نسق چلانے کیلئے منہاج ایجو کیشن سوسائٹی کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے 1997ء میں باقاعدہ طور پر منہاج ایجوکیشن سوسائٹی کے قیام کا اعلان کیا۔ پہلی منہاج ایجوکیشن سوسائٹی سندھ میں قائم کی گئی جس کو سوسائٹیز ایکٹ 1857ء اور 1962ء کے تحت رجسٹرڈ کرایا گیا۔ بعد ازاں اس کو مرکزی سطح پر قائم کیا گیا اور اسکی پورے ملک میں شاخیں قائم کی گئیں۔

منہاج ایجوکیشن سوسائٹی پورے ملک میں تعلیمی ادارہ جات کے تعلیمی معیار کو بلند کرنے کیلئے یکساں نظام کو رائج کرنے کیلئے کوشاں ہے اور نصاب تعلیم کو بھی موجودہ دور جدید کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کیلئے کام کر رہی ہے۔

شرح خواندگی میں اضافے کیلئے اقدامات

پچھلے 15 سال سے نجی سطح پر منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن ملک کی شرح خواندگی کو بڑھانے کیلئے مصروف عمل ہے۔ اب تک پورے ملک میں منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن نے 572 پرائمری و سیکنڈری اسکولز قائم کئے ہیں۔ 17 انفارمیشن ٹیکنالوجی کے کالجز اور ایک لاہور میں مرکزی سطح پر چارٹرڈ یونیورسٹی قائم کی ہے۔

نظام تعلیم میں تبدیلی کیلئے کوشاں

590 تعلیمی اداروں میں جدید ترقی یافتہ نظام تعلیم نافذ کیا گیا ہے جس میں دینی اور دنیاوی تعلیم کو مربوط کر کے نصاب مرتب کیا گیا ہے۔ ان تعلیمی اداروں میں بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کرنے کیلئے ترقی یافتہ ممالک کے تجربات سے فائدہ اٹھایا گیا ہے، خصوصاََ امریکہ، یورپ، اور جاپان کے تعلیمی ماحول کے مثبت پہلوؤں کو مقامی ضروریات سے ہم آہنگ بنایا گیا ہے۔

اساتذہ کی تربیت کا نظام

منہاج سسٹم آف ایجوکیشن کے تحت چلنے والے تعلیمی اداروں کی جدید نصاب کی تدریس کا اہل بنانے کیلئے اساتذہ کو تربیتی کورسز کرائے جاتے ہیں۔

طریقہ تدریس

  1. منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن نے MES کے ذریعے طریق تدریس میں بنیادی تبدیلیاں کی ہیں روایتی مار پیٹ، ڈانٹ ڈپٹ پر کلیتاََ پابندی ہے تاکہ طلبہ کی صلاحیتوں کو دبانے اور ان کی شخصیت کو ہمہ جہت ارتقاء کو روکنے کی بجائے اس کے آزادانہ فروغ اور جمہوری رویوں اور خود اعتمادی کو برقرار رکھا جاسکے۔ اس رویہ کے حامل افراد کو تدریس کیلئے نااہل قرار دے دیا جاتا ہے۔
  2. بچوں کو جذباتی (Emotional)، سماجی (Social)، جسمانی (Physical)، ذہنی (Mental)، نفسیاتی (Psyclogical) اور اخلاقی (Moral) نشوونما کو نصاب کا حصہ بنایا گیا ہے۔
  3. روایتی اور بے مقصد طریق تعلیم کی بجائے تخلیقی، ایجادی اور جرات مندانہ صلاحتیوں کو نکھارنے اور فروغ دینے کا ضامن طریق تعلیم اور تدریس نافذ کیا گیا ہے۔

طلبہ میں سوچ و فہم کی صلاحیت کا فروغ

منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن نے سوچ اور فہم (Thinking & Understanding) پر مشتمل علمی سرگرمیوں کا آغاز ابتدائی تدریس (Early Education) سے پرائمری لیول تک ایک نصاب اور مرتب کیا ہے۔

دینی تعلیمات اور نظریہ پاکستان سے آگہی

منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن نے قرآنی علوم، دینی تعلیمات اور نظریہ پاکستان سے بنیادی آگہی کو ہر سطح پر نصاب و نظام کا حصہ بنایا ہے۔

نصاب سے تعصب پر مبنی مواد کا خاتمہ

منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن نے اپنے تعلیمی اداروں سے ہر طرح کے مذہبی، علاقائی، لسانی، طبقاتی اور فرقہ وارانہ تعصبات اور نفرتوں کو تعلیمی نصاب اور تعلیمی اداروں سے خارج کر دیا ہے۔

بامقصد تعلیم کا فروغ

  1. نظام تعلیم میں انقلابی اصلاحات کے ذریعے معیاری (Qualitativi) اور مقداری (Quantitative) تبدیلی لانے کی کوشش کی گئی ہے۔
  2. Play Group سے لیکر اعلیٰ سطح تک تمام تعلیمی اداروں میں تعلیم کو بامقصد، علمی اور بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کیا گیا ہے۔

تعلیمی ماحول کا فروغ

منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے تحت ملک کے تمام تعلیمی اداروں میں نرسری سے لیکر یونیورسٹی تک تعلیم اور تحقیق کے فروغ کیلئے سیکھنے کا بہترین ماحول (Intellectual climate & Learning environment) پیدا کیا گیا ہے۔

طلبہ میں گلوبل وژن کا فروغ (Global Vision)

منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے نصاب اور طریقہ تدریس (Teacher Methodology) میں جدید تقاضوں کے مطابق ایسے اقدامات کئے گئے ہیں جن سے طلبہ میں عالمی زاویہ نظر (Global Vision) اور استعداد کا فروغ ہو اور ان کی شخصیت جدید دور کے تقاضوں کے مطابق پروان چڑھ سکے۔

پروفیشنل ایجوکیشن میں بین الاقوامی معیار (International Standard of Professional education)

منہاج سسٹم آف ایجوکیشن میں پرائمری تعلیم سے لیکر اعلیٰ سطح تک ایسے مضامین کی تعلیم اور پروفیشنل فنون کی تربیت بہم پہنچائی جاتی ہے جسکی بدولت منہاج القرآن کے تعلیمی ادارہ جات کے فارغ التحصیل طلبہ دنیا کے کسی بھی گوشے میں کام کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج منہاج انٹرنیشنل یونیورسٹی کے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات دنیا میں مختلف شعبوں میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں کیونکہ منہاج سسٹم آف ایجوکیشن کے تعلیمی اداروں میں اردو کے ساتھ انگلش زبان پر عبور بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔

آئی ٹی کا فروغ (Information Technology)

انفارمیشن ٹیکنالوجی کو فروغ دیا گیا ہے۔ منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے تحت پورے ملک میں 17 آئی ٹی کالجز چل رہے ہیں جبکہ دیگر تعلیمی اداروں میں بھی آئی ٹی کی تعلیم لازمی قرار دی گئی ہے۔

اسکولوں کی لائبریریوں اور کتب خانوں کے نظام کو (Resource Sharing) کی غرض سے جدید کمپیوٹرائزڈ کیا گیا ہے۔ انہیں بین الاقوامی ذرائع ابلاغ، یونیورسٹیوں، لائبریریوں اور تحقیقی مراکز کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے تاکہ ہمارے طلبہ یہاں بیٹھے پوری دنیا کی ریسرچ سے استفادہ کر سکیں۔

جدید علوم (Emerging Science)

منہاج تعلیمی اداروں میں جدید علوم (Emerging Science) بھی متعارف کرائے جارہے ہیں۔

دینی تعلیم (Islamic Education)

دینی تعلیم کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کیا گیا ہے۔

انسانی حقوق اور اقدار کا احترام (Respect of Human Rights)

انسانی حقوق کا احترام، قانون کی بالادستی اور انسانیت نواز زاویہ نگاہ کے فروغ کو نصاب کا حصہ بنایا گیا ہے۔

شرح خواندگی کا معیار (Standard of Literacy)

پاکستان میں اس وقت ہر وہ شخص خواندہ تصور کیا جاتا ہے جو

  1. اپنا نام لکھ سکتا ہو
  2. کسی بھی زبان میں چار جملے لکھ اور بول سکے۔
  3. چار عددی ہندسہ شناخت کر سکے۔

منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن تعلیمی منصوبے ’’تعلیم سب کیلئے (Education For All)” کے تحت تعلیم کو بین الاقوامی سطح پر لانے کیلئے شرح خواندگی کے معیار کی تبدیلی کیلئے کوشاں ہے۔

پرائمری تعلیم (Primary Education)

غریب خاندانوں کے 52 فیصد بچے سرے سے اسکول ہی نہیں جاتے اور ناخواندہ رہ جاتے ہیں، جو خاندان غریب نہیں ہیں ان کے بھی 31 فیصد بچے اسکول نہیں جاتے۔ بچوں کی تعلیم کو نظر انداز کرنے کے کلچر کی حوصلہ شکنی اور عوامی شعور کی بالیدگی کیلئے منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن نے خواندگی سنٹرز کے قیام کا منصوبہ دیا ہے اور ایک مہم لانچ کرنے کا پروگرام بنایا ہے جس میں منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے رفقاء ان والدین سے ملیں گے اور ان کے بچوں کو پرائمری اسکولز یا خواندگی سنٹر میں داخل کرانے کیلئے ان کو شعور دیں گے اور ان بچوں کے والدین کو بھی یہ دعوت دی جائیگی کہ وہ تعلیم جیسی اہم نعمت سے مستفید ہوں۔

کلاسوں کا سائز 30 طلبہ تک محدود ہے (Volume of Classes)

منہاج سسٹم آف ایجوکیشن کے تحت تعلیمی اداروں میں کلاسوں کا حجم 30 طلبہ سے بڑھنے نہیں دیا جاتا، اس مقصد کیلئے ہر اسکول کی عمارت میں دو دو شفٹیں بھی لگائی جاتی ہیں تاکہ طلبہ کو اساتذہ کی انفرادی توجہ زیادہ سے زیادہ مل سکے۔

نظام تعلیم اور نظام امتحان میں تبدیلی (Change in Education and Examination System)

طلبہ کی تعلیمی استعداد بڑھانے کیلئے نظام امتحانات میں اصلاحات کی جا رہی ہیں اور اسے بین الاقوامی معیار اور طریقہ کے مطابق تبدیل کیا جا رہا ہے۔ موجودہ نظام امتحان طلبہ کی تعلیمی استعداد و قابلیت کی بجائے محض یاد داشت کا امتحان ہے۔ تعلیم اور نظام امتحان کو Knowledge Oriented بنایا جا رہا ہے۔

تحقیق پر مبنی مقالات (Research Assignment)

تجربات Experiment اور Presentation پر مبنی عملی تعلیم Practical Education کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

مسلسل نصابی اصلاحات (Continuous Curriculum Reforms)

تعلیمی معیار بڑھانے او ر جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے بین الاقوامی معیار کے مطابق مسلسل نصابی اصلاحات کی پالیسی کو اپنایا گیا۔

شخصی ترقی کے حامل نصاب کا نفاذ (Syllabus of Personality Development)

منہاج ایجوکیشن سسٹم کے تحت تعلیمی نصاب کو شخصیت کے ارتقاء کا ضامن بنایا گیا ہے تاکہ طلبہ میں ان کی کرداری خصوصیات کو فروغ دیا جاسکے۔

  • خود تشخیصی (Self Evaluation)
  • مقابلے کا رحجان (Competition)
  • مشاورت (Counseling)
  • مباحث (Discussion)
  • جمہوری رویہ (Democracy)
  • نظم و ضبط (Discipline)
  • ہم نصابی طریقہ تعلیم (Demonstrative Activities)

طلبہ کے درمیان تعلیمی دلچسپی اور صحت مند مقابلے کی فضاء پید اکر نے کیلئے ہم نصابی طریقہ تعلیم کو رائج کیا گیا ہے جس سے طلبہ کو درج ذیل فوائد حاصل ہوتے ہیں۔

  1. بچوں کی شعوری ترقی کا پروگرام اپنے نتائج کی طرف تیزی سے بڑھتا ہے۔
  2. ان میں سوجھ بوجھ اور مہم کو فروغ ملتا ہے۔
  3. ان کو جذباتی، سماجی، طبعی اور ذہنی ترقی کے مو اقع میسر آتے ہیں۔
  4. طلبہ کو عملی زندگی میں پیش آنے والے مسائل کے عملی حل کی تربیت ملتی ہے۔
  5. کم عمری میں ہی قومی مسائل کا شعور اور انہیں حل کرنے کی لگن اور صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔

بے سہارا اور یتیم بچوں کی تعلیم کیلئے فنڈ کا قیام (Orphan’s Childs Fund forEducation)

منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن نے پورے ملک میں بے سہارا اور یتیم بچوں کی تعلیم کیلئے خصوصی فنڈ قائم کیا ہے جس میں تاجروں، صنعت کاروں اور مخیر شہریوں اور اچھے روزگار کے حامل گریجویٹس سے ان کی آمدنی میں سے 5 فیصد فنڈز کے حصول کیلئے اپیل کی جاتی ہے۔

’’منہاج لیٹریسی سنٹرز (Minhaj Literacy Centre )‘‘

برائے سال : 11-2010
تعداد : 500
کلاسز : 1000
کلاسز (خواتین) : 500
کلاسز (مرد) : 500

جگہیں جہاں منہاج لیٹریسی سنٹرز قائم کئے جائیں گے منہاج پبلک اسکولز / منہاج ماڈل اسکولز/ منہاج کالجز

نگران تنظیمی ناظم – تحریک منہاج القرآن

منتظم اسکول پرنسپل / وائس پرنسپل / پرنسپل کا منتخب کردہ سینئر استاد

استاد / ٹیچر تعیناتی اسکول پرنسپل کریگا۔

استانی / لیڈی ٹیچر تعیناتی اسکول ہیڈ مسٹریس / پرنسپل کریگا۔

اوقات کا ر برائے مرد (بالغان) مغرب سے عشاء

اوقات کار برائے خواتین (بالغان) عصر سے مغرب

دورانیہ ٹیوشن 1 سے ڈیڑھ گھنٹہ

تعداد فی کلاس مرد 25 مرد

تعداد فی کلاس خواتین 25 خواتین

تعلیم خواندگی کے کورس کی مدت 3 ماہ

سالانہ فی کلاس کورسز کی تعداد 4 ماہ

ہر سنٹر سے سالانہ خواندہ افراد کی تعداد 200 افراد

ہر سنٹر سے سالانہ خواندہ ہونے والی خواتین 100

ہر سنٹر سے سالانہ خواندہ ہونے والے مرد 100

500 سنٹرز سے سالانہ خواندہ ہونے والی خواتین 50000

500 سنٹرز سے سالانہ خواندہ ہونے والے مرد 50000

500 سنٹرز سے سالانہ خواندہ ہونے والے افراد 100000

خواندگی سنٹرز کیلئے مختص ٹیچرز صاحبان کا اعزایہ بذمہ منہاج پبلک / ماڈل اسکولز / منہاج کا لجز

کورس سرٹیفکیٹ کا اجراء ہر تین ماہ کے بعد

اسپیشل ایجو کیشن کے اسکولز کا قیام (Special Education Schools)

منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن گونگے، بہرے اور نابینا افراد کو معاشرے میں باعزت شہری بنانے کیلئے اسپیشل ایجوکیشن کے اسکولز بھی قائم کریگی جہاں انہیں اپنا روزگار کمانے کے قابل بنایا جائیگا تاکہ ایسے افراد معاشرے کے رحم و کرم پر نہ رہیں اور اپنا بوجھ خود اٹھا سکیں۔

ووکیشنل اور ٹیکنیکل ایجوکیشن (Vocational & Technical Schools)

منہاج سسٹم آف ایجوکیشن کے تحت ملک میں چلنے والے 375 اسکولز ہیں اور 17 کالجز ہیں۔ ملک میں چلنے والے 75 فیصد تعلیمی ادارہ جات کو عام تعلیم کی بجائے پیشہ وارانہ اور فنی تعلیم (Vocational and Technical Education) میں مرحلہ وار بنیادوں پر تبدیل کیا جائیگا، اس ضمن میں ترجیحی بنیادوں پر درج ذیل اسکولز قائم کئے جائیں گے۔

  1. فنی و صنعتی اسکولز (Vocational and Industrial Schools)
  2. کامرس اسکولز (Commerce Schools)
  3. ہوم سائنسز اسکولز (Home Science Schools)
  4. نرسنگ اسکولز (Nursing Schools)
  5. زرعی اسکولز (Agricultural Schools)
  6. ماہی گیری کے اسکولز (Fishery Schools)

اکیڈمک ایجوکیشن (Academic Education)

منہاج سسٹم آف ایجوکیشن کے تحت 25 فیصد اسکولوں کو اکیڈمک تعلیم (Academic Education) کیلئے برقرار رکھا جائیگا۔ جہاں پر مندرجہ ذیل علوم پڑھائے جائیں گے۔

1۔ لسانیات (Languages)
2۔ سماجی علوم (Social Sciences)
3۔ قانون (Law)
4۔ آرٹس (Humanities)
5۔ اسلامک سائنسز (Islamic Sciences)
6۔ کمپیوٹر سائنسز (Computer Sciences)
اور دیگر متعلقہ جملہ مضامین

نئی یونیورسٹیوں کا قیام (Establishment of New Universities)

منہاج سسٹم آف ایجوکیشن کے تحت عالمی معیار کی یونیورسٹی منہاج یونیورسٹی ہے جوکہ گریڈ ’’A‘‘ میں چارٹرڈ یونیورسٹی ہے یہ لاہور ٹاون شپ میں قائم ہے۔ جبکہ بلوچستان، کراچی سندھ، آزاد کشمیر میں نئی یونیورسٹیوں کا قیام کیلئے جگہ حاصل کی گئی ہے۔

صحت (Health)

یہ ہماری قوم کی بدقسمتی ہے کہ کسی بھی دور حکومت میں صحت کیلئے GDP کا 1 فیصد حصہ سے زیادہ کبھی بھی مختص نہیں کیا گیا، ہمارا صحت کا بجٹ ترقی یافتہ ممالک کے صحت کے بجٹ کا کبھی 10 فیصد بھی نہیں رہا۔

صحت

پاکستانی قوم کی بد قسمتی ہے کہ سابقہ ادوار میں صحت کیلئے GDP کا صرف 0.7 فیصد حصہ مختص کیا جاتا رہا ہے جو کسی بھی ترقی یافتہ ملک کا 10گنا بھی نہیں بنتا۔ پاکستان میں اس وقت 1،60،270 افراد کیلئے ایک ہسپتال 1529 افراد کیلئے ایک ڈاکٹر اور 1495 افراد کیلئے ایک ہاسپیٹل بیڈ ہے۔ ملک میں کیثر افراد کی بنیادی سہولیات سے محرومی کے باعث موت کا شکار ہوجاتے ہیں جن میں سب سے زیادہ شرح شیر خوار بچوں کی ہے۔ 1000 میں سے 90 بچے شیرخوارگی میں ہی موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔

پاکستان میں ہیلتھ سروسز کی صورتحال نہایت ابتر ہے۔ منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن صحت کے میدان میں شہریوں کی صحت کے معیار کو بہتر بنانے کیلئے درج ذیل اقدامات کر رہی ہے۔

  1. منہا ج ہسپتال
  2. منہاج فری ڈسپنسریز
  3. منہاج ایمبولینس سروس

قومی سطح پر منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن نے منہاج ہیلتھ سروسز (Minhaj Health Services) قائم کی ہے۔ جو ہر شہری کو صحت کی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے کوشاں ہے اور ملک بھر میں صحت کے عالمی معیار کے حصول کیلئے بہتر کارکردگی کا نظام وضع کرنے کیلئے جدوجہد میں مصروف عمل ہے۔

ناقص صحت کے اسباب و شرح

غربت، جہالت، شہروں او ر دیہاتوں میں بے تحاشا آبادی، ماحولیاتی آلودگی، صاف پانی کی عدم فراہمی، نکاسی آب کا ناقص انتظام اور خوراک میں ملاوٹ جیسے عناصر نے بیماری اور خراب صحت کی شرح میں بے تحاشا اضافہ کیا ہے۔ منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے اب تک صحت کے میدان میں درج ذیل پراجیکٹس کام کر رہے ہیں۔

فری میڈیکل کمپلیکس و ہسپتال

منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے تحت ساہیوال، ملتان، پاکپتن، گجرانوالہ اور مردان میں منہاج ویلفیئر ہسپتال قائم کیے ہیں جن کی تعداد 2009ء میں (5) ہے۔ ان پراجیکٹس سے ہزاروں مریض مستفید ہوچکے ہیں۔ ان پراجیکٹس پر تین کروڑ سے زائد اخراجات ہوچکے ہیں۔ مرکزی تعلیمی ادارہ جات کے اسٹاف ممبرز اور اسٹوڈنٹس کیلئے ایک منہاج کلینک قائم کیا گیا ہے جہاں علاج و معالجہ کی سہولت مفت پہنچاتی ہے۔

منہاج فری ڈسپنسریز

عوام کی فلاح و بہبود کیلئے ملک بھر میں ڈسپنسریز کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ اس وقت پورے ملک میں منہاج فری ڈسپنسریز کی مجموعی تعداد 107 ہے، ان سے 50 ہزار افراد سالانہ مستفید ہو رہے ہیں، ان پر اب تک تقریباً 87 لاکھ خرچ ہوگئے ہیں۔

منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے زیراہتمام اب تک 25 شہروں میں منہاج فری ایمبولینس سروس فراہم کی گئی ہے، یہ سروس غریب اور نادار مریضوں کی خدمت کے علاوہ کسی بھی ایمرجنسی کیلئے ہر وقت فون کال پر دستیاب ہوتی ہے، اس مقصد پر اب تک ایک کروڑ 61 لاکھ خرچ ہوچکے ہیں۔

سالانہ فری آئی سرجری کیمپ

منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن ضلع ناروال میں سالانہ فری آئی سرجری کیمپ کا اہتمام کرتی ہے جہاں معروف آئی اسپیشلسٹ مریضوں کا معائنہ اور آپریشن کرتے ہیں۔ آئی کیمپ میں مریضوں کے قیام، طعام، ادویات، ٹیسٹ اور آپریشن کا مکمل خرچ منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے ذمے ہوتا ہے۔ اس منصوبہ پر گذشتہ 11 سال میں تقریباً ایک کروڑ 17 لاکھ روپے خرچ کیے گئے ہیں۔

فری میڈیکل کمپلیکس

ملک کے طول و عرض میں عوام الناس کو طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد کیا جاتا ہے جہاں قابل ترین ڈاکٹرز کے ذریعے عوام کو علاج معالجہ کی سہولیات مفت فراہم کی جاتی ہے۔

غریب افراد کیلئے مفت علاج کی سہولت

منہاج ویلفیئر ہسپتالوں اور ڈسپنسریز میں غریب افراد کو مفت علاج کی سہولت فراہم کی گئی ہے جبکہ ماہانہ بنیادوں پر فری میڈیکل کیمپس کے انعقاد میں 1000 سے 1200 مریضوں کو ایک کیمپ میں ادویات و ڈاکٹرز کی سروسز مفت پہنچائی جاتی ہیں۔

بچوں کیلئے الگ ہسپتال کا قیام

منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن گوجرانوالہ اور پاکپتن شریف کے تحت بچوں کیلئے منہاج چلڈرن میڈیکل کمپلیکس قائم کیے گئے ہیں، ان ہسپتالوں سے ملحق ریسرچ سنٹرز بھی قائم کیے جائیں گے جہاں بچوں کے امراض پر تحقیق کی جائیگی۔

ریسکیو

ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن نے پہلے مرحلے میں 250 افراد کو ریسکیو تربیت دی ہے۔ بم بلاسٹ یا کسی عمارت کے گرنے، زلزلہ کی صورت میں طوفان یا سیلاب کی صورت میں فلاح کا کام کرنے کیلئے درج ذیل مراحل میں تربیت دی جارہی ہے۔

  1. زخمیوں کی ابتدائی طبی امداد
  2. فرسٹ ایڈ (ابتدائی طبی امداد)
  3. عمارت یا پھنسے ہوئے افراد کو نکالنا

منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن نے اپنے رضاکاروں اور کارکنوں کو پہلے لاہور سٹی میں اس کے بعد پورے ملک میں ریسکیو ٹرینیگ دی گئی ہے۔

صحت اور بیماریوں کے متعلق تعلیم و تربیت کا نظام

منہاج سسٹم آف ایجوکیشن کے تعلیمی ادارہ جات میں صحت اور بیماریوں سے متعلق تعلیم و تربیت کو شامل نصاب کیا جائیگا۔ غذائیت (Nutrition) اور صفائی جیسے اہم مسائل بھی نصاب میں شامل ہونگے۔

بلڈ ڈونر سوسائٹی کا قیام

منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن منہاج القرآن یوتھ ونگ کے ساتھ ملکر پورے ملک میں بلڈ ڈونر سوسائٹی کا قیام عمل میں لارہی ہے۔ جہاں بلڈ ڈونیشن ٹیسٹنگ کیمپس منعقد کیے جارہے ہیں اور ہنگامی صورتحال میں خون دینے والے رضا کاروں کی فہرستیں مرتب کی جا رہی ہیں تاکہ ایمرجنسی کی صورت میں ایسے لوگوں کی مدد حاصل کی جاسکے۔

پینے کے صاف پانی کی فراہمی کی سہولت

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اکثر بیماریاں آلودہ پانی کے پینے سے ہوتی ہیں اور پاکستان میں بیماریوں کے عام ہونے کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی ہے کہ یہاں اکثر آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں جبکہ ہر شہری کو صاف پانی کی فراہمی صحت عامہ کی بنیاد ہے۔

منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن نے اس سلسلے میں ایک جامع حکمت عملی تیار کی ہے۔ آلودہ پانی کو صاف کرنے کے پلانٹس نصب کرنے کا پلان بنایا گیا جو کہ 11-2010ء کے اہداف میں اس کو شامل کیا گیا ہے۔

فلاح عام

منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن ’’تعلیم‘‘ اور ’’صحت‘‘ کے منصوبہ جات کے علاوہ دکھی انسانیت کی فلاح و بہبود کے ایجنڈے پر بھی عمل پیرا ہے۔ اس وقت ’’فلاح عام‘‘ کے مندرجہ ذیل منصوبہ جات پر کام جاری ہے۔

بیت المال

اسلامی معاشرے میں بیت المال کی اہمیت کے پیش نظر غریب اور نادار لوگوں کی امداد اور بحالی کے لیے منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن نے ’’بیت المال‘‘ قائم کر رکھا ہے۔ تنظیمی و انتظامی اسٹرکچر کے مطابق ملکی اور تحصیلی سطح پر بیت المال کی شاخیں کام کررہی ہیں۔ جہاں غریب اور نادار مریضوں کی مالی مدد کی جاتی ہے۔ اس پر اب تک تقریباً ایک کروڑ 60 لاکھ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔ جس سے 3995 مستحق افراد مستفید ہوچکے ہیں۔

اجتماعی شادیاں

ہمارے معاشرے کی ستم ظریفی ہے کہ اس میں بیٹی کی شادی جیسا مقدس فریضہ بھی والدین پر بوجھ بن چکا ہے۔ جہیز کی لعنت نے غریب اور سفید پوش طبقے کو بہت پریشان کر رکھا ہے۔ منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن نے والدین کے اس بوجھ اور پریشانی کے لیے غریب بچیوں کی اجتماعی شادیاں سرانجام دینے کا آغاز کیا ہے۔ ان بچیوں کے لیے جہیز کا سامان، بارات اور مہمانوں کی باعزت تواضع اور بچیوں کی رخصتی کا اہتمام منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کرتی ہے۔ اس وقت تقریباً 452 غریب بچیوں کی شادیاں منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے زیراہتمام ہوچکی ہیں۔ ایک شادی پر تقریباً ایک لاکھ پچاس ہزار روپے خرچ آتا ہے۔ مجموعی طور پر اب تک تقریباً 5 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جاچکے ہیں۔

قدرتی آفات کے متاثرین کی بحالی

منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن قدرتی آفات (مثلاَ سیلاب، برفباری اور قحط سالی وغیرہ) کا شکار ہونے والے انسانوں کی بحالی میں ہمیشہ پیش پیش رہی ہے اور ان کے لیے خوراک، لباس، رہائش، ادویات اور ضروری سامان کا ممکنہ حد تک بندوبست کرتی ہے۔ اب تک بلوچستان، سرحد، سندھ اور پنچاب کے قدرتی آفات کے متاثرین کی بحالی کے علاوہ بام زلزلہ (ایران) اور انڈونیشیا کے سمندری طوفان (سونامی) کی متاثرین کی بحالی کے لیے تقریباً 27 کروڑ 71 لاکھ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔

جبکہ گذشتہ سال متاثرین غزہ، راجن پور، کوئٹہ (زیارت) کے علاوہ ملکی تاریخ کی سب سے بڑی نقل مکانی کرنے والے متاثرین سوات و مالاکنڈ پر تقریباً 7 کروڑ سے زائد مالیت کی امداد تقسیم کی گئی۔ منہاج خیمہ بستیوں کے علاوہ 96 منہاج رہائشی یونٹس قائم کیے گئے ہیں جن میں 7ہزار خاندانوں کو خوراک اور روزمرہ اشیاء بہم پہنچائی گئیں۔ 13 ہزار IDP’S کو فری میڈیکل ایڈ دی گئی۔ 24 گھنٹے فری ایمبولینس سروس کے علاوہ منہاج ویلفیئر ہسپتال بھی قائم کیا گیا۔ متاثرین کی باعزت واپسی کے مواقع پر 1400 خاندانوں کو 20 ہزار نقدی اور روشن پیکیج بھی دیا گیا اور انہیں ٹرانسپورٹیشن کی سہولت بھی فراہم کی گئی۔

عید گفٹ اور راشن اسکیم

مہنگائی اور بے روزگاری کے ستائے ہوئے غریب افراد کے لیے منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن ہر سال عیدین کے موقع پر راشن اور عید گفٹ مہیا کرتی ہے۔ جس میں سویاں، کپڑے، مہندی، چوڑیاں، مٹھائی، آٹا، گھی، دودھ اور دیگر ضروری اشیاء ہوتی ہیں۔ اس پر اب تک تقریباً 30 لاکھ روپے سے زائد خرچ کیے جا چکے ہیں۔

فراہمی آب کا عوامی منصوبہ

پاکستان میں اس وقت تقریباً نصف سے زیادہ آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے جس کی وجہ سے خطرناک بیماریوں میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے جبکہ بعض جگہوں پر خواتین کئی میل سفر طے کر کے پینے کا پانی لے کر آتی ہیں، منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن نے ابتدائی طور پر پاکستان کے ایسے ہی اضلاع میں 1500 واٹرپمپس لگوانے کے منصوبے پر کام شروع کیا ہے۔ جن میں سے 762 واٹر پمپ نصب کیے جاچکے ہیں۔ جن سے تین لاکھ سے زائد افراد مستفید ہو رہے ہیں۔ اب تک تقریباً 35 لاکھ روپے خرچ ہوچکے ہیں۔

www.welfare.org.pk
E-mail: info@welfare.org.pk
director@welfare.org.pk