متاثرین زلزلہ (کشمیر)

Kashmir Earthquake 2005 Kashmir Earthquake 2005

مورخہ 8 اکتوبر کی صبح کشمیر، شمالی علاقہ جات، سرحد کے بعض اضلاع اور اسلام آباد میں اچانک شدید قسم کا زلزلہ آنے سے قیامت صغریٰ برپا ہوئی۔ جس سے ہنستے بستے شہر، بازار، کاروباری مراکز، تعلیمی ادارے، مواصلاتی نظام، ہسپتال، دیہات، اور پہاڑوں پر پھیلی ہوئی چھوٹی چھوٹی آبادیاں اور گھر تباہ وبرباد ہوئے خوبصورت رہائشی مکانات اور مضبوط عمارات آناً فاناً ملبے کا ڈھیر بن گئیں، لاکھوں افراد لقمہ اجل بن گئے، ہزاروں لوگ ملبے کے نیچے دب گئے، بے شمار لوگ زخمی ہو گئے، ہزاروں بچے، مرد اور عورتیں زندگی بھر کے لیے معذور اور اپاہج ہو گئے، لاتعداد بچے والدین کے سایہ عاطفت سے محروم ہو گئے، ان گنت بوڑھے والدین بے سہارا اور بے آسرا اور ہزاروں خواتین بیوہ ہو گئیں۔

Kashmir Earthquake 2005 Kashmir Earthquake 2005

غیر معمولی تباہی دیکھ کر بڑی تعداد میں لوگ ہوش وحواس گم کر بیٹھے، لاکھوں لوگ بے گھر ہو گئے۔ کروڑوں کے کاروبار اور سازو سامان مٹی کے ڈھیر میں بدل گئے۔ یک لخت مکانوں کی چھتیں اور دیواریں گرنے سے اہل خانہ پر جو قیامت صغریٰ ٹوٹی اور آہ و بقاء کے دل گداز مناظر دیکھنے میں اور سننے میں آئے اور پھر جس طرح پختہ راستے، سڑکیں، حتیٰ کے پہاڑ بھی پھٹ گئے۔ اور عینی شاہدین کے مطابق صرف کئی منزلہ عمارات ہی نہیں بلکہ متعدد دیہات بھی زمین کے اندر دھنس گئے اور یوں ہنستی بستی پررونق انسانی آبادیاں صفحہ ہستی سے مٹ گئیں۔

Kashmir Earthquake 2005 Kashmir Earthquake 2005

اس اندوہناک سانحہ میں خوش قسمتی سے جو چھوٹے بڑے لوگ اور مردو خواتین زندہ بچ گئے ہیں اموال واملاک کاروبار اور گھر خویش و اقارب، دوست احباب اور اہل واعیال کی ہلاکت کے بعد ان کی زندگی کتنی دوبھر ہوگئی ہے۔ مصائب وآلام کے کتنے پہاڑ ان کے سامنے کھڑے ہو گئے ہیں کتنی مشکلات درپیش ہیں جان جوکھوں اور پیٹ کاٹ کر بڑی چاہتوں اور خواہشوں بلکہ بڑی قربانیوں سے تیار کیے گئے گھروں کے آنکھوں کے سامنے ملبے کا ڈھیر بننے کے بعد اس مہنگائی کے دور میں دوبارہ حسب منشاء وتمنا گھروں کی تعمیر کتنی مشکل ہے۔ یتیم اور بے سہارا بچوں کا وارث کون بنے گا؟ معذور اور اپاہج لوگوں کو کون سنبھالے گا؟ بیوہ عورتوں کی کفالت کون کرے گا؟ اس ہمہ جہتی تباہی و بربادی کے تمام اہل وطن پر معاشی ومعاشرتی اعتبار سے کتنے بڑے اثرات پڑے ہیں؟

Kashmir Earthquake 2005 Kashmir Earthquake 2005

امتحان و آزمائش کی اس گھڑی میں منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن نے زلزلہ سے متاثرہ لوگوں کی بحالی، مکانات کی تعمیر نو ملبے کے نیچے سے دبے لوگوں کو نکالنے زخمیوں کے علاج معالجے، خوراک، کپڑے، کمبل، خیمے وغیرہ متاثرین تک پہنچانے خیمہ بستیوں اور خیمہ سکولز کا قیام تمام متاثرہ علاقوں کی تعمیری منصوبہ بندی اور لاکھوں متاثرین کی فوری مدد کے لیے کروڑوں روپے کے فنڈز کی فراہمی اور متاثرین کی مستقل بحالی کے لیے متعدد اقدامات کئے ہیں اور منصوبے بنائے ہیں اور مسلسل مساعی کر رہی ہے۔

مورخہ 8 اکتوبر کے تباہ کن زلزلہ میں منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن نے متاثرہ علاقوں میں 15خیمہ بستیاں قائم کی ہیں۔ جس میں مظفرآباد، بالاکوٹ، باغ، بٹگرام، وادی نیلم، چکوٹھی، وغیرہ شامل ہیں۔ ان بستیوں میں موجود کم و بیش 1500 خاندان 6 ماہ تک منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے زیر کفالت رہے۔ جہاں عارضی رہائش، خوراک، لباس، جستی چادریں، ادویات، فری میڈیکل سروس اور فری ایمبولینس سروس، تاحال مہیا کی جا تی رہی۔ اس کے علاوہ نقدی کی صورت میں کروڑوں روپے ریلیف دیا جا چکا ہے۔ اس وقت مجموعی طور پر 25 کروڑ روپے سے زائد خرچ کئے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ 600 شیلٹرز ہوم بنائے گئے علاوہ ازیں زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں سکولز اور مساجد کے قیام کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس منصوبہ پر 1,25,00,000 روپے کا تخمینہ ہے۔

Kashmir Earthquake 2005