منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن 100 سے زائد شہروں میں 6 ہزار اجتماعی قربانیوں کا اہتمام کرے گی

ڈائریکٹر منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن سید امجد علی شاہ نے کہا ہے کہ سال 2018ء میں منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے زیراہتمام 100 سے زائد شہروں میں 6 ہزار اجتماعی قربانیوں کا اہتمام کیا جائیگا۔ بنگلہ دیش، انڈیا، کینیا، صومالیہ، نیپال میں بھی اجتماعی قربانیوں کے کیمپ لگائے جائینگے۔ قربانی کا گوشت غربا، مساکین اور ضرورت مندوں میں تقسیم کیا جائیگا، کھالوں سے اکٹھی ہونے والی رقم منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے جاری فلاحی منصوبوں پر خرچ کی جاتی ہے، لاہور میں قائم کی گئی مرکزی قربان گاہ میں سینکڑوں گائیں، بکرے، دنبے اور چھترے ذبح کیے جائینگے۔ قربانی اسلامی تعلیمات کا ایک اہم حصہ، اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ اور مالی عبادت ہے۔

سید امجد علی شاہ نے کہا کہ قربانی جانوروں کا خون بہانے کا نام نہیں اس کا اصل مقصد اللہ کی خوشنودی حاصل کرنا ہے، ایثار اور قربانی کے اس جذبے کو زندہ رکھنا ہے جس کا مظاہرہ اللہ رب العزت کے حکم پر ان کے محبوب پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو قربانی کیلئے پیش کر کے کیا۔

انہوں نے کہا کہ منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن دکھی انسانیت کی خدمت کرنا والا ایک عالمگیر ادارہ ہے جو شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے وژن اور ہدایات کے مطابق شب و روز دکھی انسانیت کی خدمت کیلئے کوشاں ہے، عوامی خدمت کے بے مثال منصوبوں کی تکمیل کی وجہ سے اندرون و بیرون ملک مقیم پاکستانی ایم ڈبلیو ایف پر بے حد اعتماد کرتے ہیں، امجد علی شاہ نے کہا کہ منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن مخیر حضرات کی پائی پائی کو انسانی خدمت کے منصوبوں بالخصوص تعلیمی منصوبوں پر خرچ کرتی ہے، یتیم بچوں کی تعلیم اور کفالت کے منصوبے آغوش کا دائرہ لاہور سے باہر تک پھیلا دیا گیا ہے، آغوش میں سینکڑوں یتیم بچوں کو تعلیم اور کفالت میسر ہے، انہوں نے کہا کہ جن کا کوئی نہیں ان کی منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن ہے، آغوش کیئر ہوم، یتیم کی کفالت اور تعلیم کی فراہمی میں مددگار ہے۔

انہوں نے کہا کہ بے شمار غریب اور مستحق لوگ ایسے ہیں جنہیں سال بھر گوشت کھانا نصیب نہیں ہوتا، قربانی کے اس عمل سے اس ضرورت مندوں کو بھی یہ نعمت میسر آتی ہے، قربانی کی کھالیں فلاحی اداروں اور دیگر نیک مقاصد کیلئے استعمال کی جاتی ہیں، جن سے حاصل ہونے والی رقوم بھی غریبوں کے کام آتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قربانی کا مقصد جانور ذبح کرنا ہے مگر اس کی اصل روح تقویٰ اور اخلاص کی آبیاری ہے، قربانی کی قبولیت کاانحصار دکھلاوے پر نہیں بلکہ خالصیت پر ہوتا ہے، جہاں اخلاص نہ ہو وہاں قبولیت بھی نہیں ہوتی، اسوہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیروی کا اصل مقصد جانور ذبح کرنا، نفسانی خواہشات کی تکمیل اور دکھلاوا نہیں بلکہ طلب رضائے الٰہی ہے، قربانی کے ذریعے انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت، انبیائے کرام علیہم السلام سے محبت، خلوص و ایثار کا جذبہ پراون چڑھتا ہے، قربانی کا اصل فلسفہ تقویٰ اور اللہ کی رضا کا حصول ہے، اگر اسی جذبے سے قربانی کی جائے تو یقیناً وہ بارگاہ الٰہی میں شرف قبولیت کی سند پاتی ہے، اللہ تعالیٰ کو قربانی کے جانور کا خون یا گوشت نہیں بلکہ قربانی دینے والے انسان کی نیت مطلوب ہوتی ہے جس کے ذریعے اللہ کی رضا اور اس کا قرب حاصل ہوتا ہے۔

Minhaj Welfare Foundation MWF Collective Qurbani 2018