صحت : میڈیکل پراجیکٹس

منہاج فری ڈسپنسریز

پاکستان میں نصف سے زیادہ آبادی کو صحت کی عام سہولتیں بھی میسر نہیں ہیں۔ صحت اور سلامتی کو درپیش خطرات اب ماضی کے مقابلے میں بڑی تیزی سے بڑھتے چلے آ رہے ہیں۔ صحت کے شعبے میں پاکستان کی صورت حال ابتر ہے۔ پاکستان میں اب بھی ملک بھر کے ہسپتالوں میں بستروں کی سہولیات ڈاکٹرز اور نرسوں کی تعداد کل آبادی کی ضروریات کے لحاظ سے بہت کم ہے۔ پاکستان میں ادویات کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ کولیسٹرول کم کرنے والی جو معروف دوا بھارت میں 8 روپے کی ملتی ہے وہ پاکستان میں 60 روپے میں دستیاب ہے۔ بلڈ پریشر کم کرنے کی ایک دوا بھارت میں 10 روپے فی گولی اور پاکستان میں 100 روپے فی گولی کے حساب سے ملتی ہے۔ کینسر کی ایک مشہور دوا بھارت میں 35 روپے فی گولی اور پاکستان میں 450 روپے فی گولی کے حساب سے ملتی ہے۔ اس کے علاوہ بھی مختلف ادویات کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ اسی طرح تمام کمپنیوں کی قیمتوں میں کئی کئی گنا فرق موجود ہے۔

باوجود اس کے کہ گولی کی تیاری میں ایک ہی طرح کا سالٹ (بنیادی جزو) استعمال ہوتا ہے۔ اس کی ایک مثال Ceftriaxone انجیکشن کی ہے۔ یہ انجیکشن 63 کمپنیاں تیار کر رہی ہیں جن میں ایک کمپنی 99 روپے اور ایک دوسری کمپنی 543 روپے میں فروخت کر رہی ہے۔ حکومت کی جانب سے گذشتہ کئی برسوں سے یہ وعدہ کیا جا رہا ہے کہ ان مسائل کے حل کے لیے ایک "ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی" قائم کی جائے گی۔ تاہم ابھی تک یہ وعدہ پایا تکمیل کو نہ پہنچ سکا ان تمام حالات کو سامنے رکھتے ہوئے منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن نے عوام کو صحت کی بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے فری ڈسپنسریز کا آغاز کیا۔ ان ڈسپنسریز میں طبی معائنے کے ساتھ مریض کو تمام ادویات منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کی طرف سے مفت فراہم کی جاتی ہیں۔

اس وقت پورے ملک میں منہاج فری کلینکس اور بلڈ بنکس کی تعداد مجموعی طور پر 102 ہے۔ اس نیٹ ورک پر اس وقت تک چھہتر لاکھ باسٹھ ہزار دو صد چھیالیس /76,62,546 روپے لاگت آئی ہے۔ اور اس سے ہزار ہا افراد روزانہ مستفید ہو رہے ہیں۔

منہاج بلڈ بنک تھیلیسیمیا اینڈ ھیمو فیلیا سنٹر

تھیلیسیمیا ایک نہایت موذی مرض ہے۔ جس میں مبتلا زیادہ تر مریضوں میں پیدائشی طور پر خون کے سرخ خلیات (RBC) نہیں بنتے اور مریض کی تلی اور جگر بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔ تھیلیسیمیا میں مبتلا مریض کو ہر 15 سے 21 دن میں ایک خون کی بوتل کی اشد ضرورت ہوتی ہے خون نہ لگنے کی صورت میں مریض نہایت تشویش ناک حالت تک پہنچ جاتا ہے۔

منہاج بلڈ بنکس میں ھیمو فیلیا کے مرض میں مبتلا مریضوں کو بلڈ سے مثلاً FFP (سفید خون) اور علاج کی مفت سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ اگر ایک بار کہیں سے خون رسنا یا نکلنا شروع ہو جائے تو خون نکلنا بند نہیں ہوتا۔ انہیں ہر 15 سے 21 دن بعد 2 یا 5 بوتل سفید خون یعنی FFP لگانے خون کی ایک بوتل سے FFP تیار ہوتا ہے۔ بروقت FFP نہ لگنے کی صورت میں مریض کی زیادہ خون ضائع ہو جانے سے موت واقع ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ھیمو ڈائلیسز کے مریضوں کو مفت خون اور اجزائے خون کی فراہمی کو بھی ان شاء اللہ ممکن بنانا ہے۔

ڈائلیسز یعنی گردوں کی صفائی ایک ایسا عمل ہے جس میں مریض کے متاثرہ یا ناکارہ گردوں کی مشینوں کے ذریعے ہر تین سے سات دن بعد صفائی کی جاتی ہے اس بیماری میں مریض میں خون کی تیزی سے کمی واقع ہو جاتی ہے۔ اور ہر بار ڈائلیسز کے موقع پر مریض کو ایک یا ایک سے زائد خون اور اجزائے خون مثلاً (FFP/Platlets) کی ضرورت ہوتی ہے۔ خون کی فراہمی کے بغیر ڈائلیسز ممکن نہیں اور ڈائلیسز نہ ہونے کی صورت میں مریض کی حالت انتہائی تشویشناک ہو جاتی ہے۔

منہاج بلڈ بنکس کینسر کے مریضوں کو مفت خون اور اجزائے خون کی فراہمی کو ممکن بناتاہے۔ چونکہ بلڈکینسر کے مرض میں مبتلا مریض کی قوت مدافعت ختم ہو جاتی ہے۔ اور اس میں خون اور اجزائے خون کی بہت تیزی کے ساتھ کمی واقع ہو جاتی ہے اور اس سے زندہ رہنے کے لیے خون اور اجزائے خون مثلاً Platlets وغیرہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ خون کی ایک بوتل میں ایک Platlets کی بوتل تیار کی جاتی ہے۔ خون اور اجزائے خون کی فراہمی کے بغیر ان مریضوں کا علاج ممکن نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ خون کی بیماریوں میں مبتلا دوسرے مریضوں میں خصوصاً بچوں کو خون اور اجزاء خون کی فراہمی کو ممکن بناتا ہے۔

منہاج بلڈ بنک تھیلیسیما اینڈ ھیمو فیلیا سنٹر ملتان میں احسن انداز میں اپنی خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ اس وقت پورے ملک میں تمام بڑے شہروں میں موجود ہسپتالوں کے نزدیک ایریاز میں منہاج فری بلڈ بنکس اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ اب تک اس منصوبہ کے تحت ہزارہا لوگ مستفید ہو رہے ہیں۔ اس نیٹ ورک پر اس وقت تک 76 لاکھ 62 ہزار 2 سو 46 روپے لاگت آئی ہے جبکہ اس سے ہزار ہا افراد روزانہ مستفید ہو رہے ہیں۔

فری آئی سرجری کیمپس

آنکھیں اللہ تعالیٰ کا انمول عطیہ ہیں۔ اس وقت دنیا میں 60 لاکھ کے قریب لوگ نابینا ہیں۔ پاکستان میں سب سے زیادہ لوگ ریٹینائٹس پیگما ٹوسر کی وجہ سے نظر سے محروم ہوجاتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن نے عوام کی سہولت کے لیے پاکستان کے دور دراز کے پسماندہ اضلاع میں فری آئی سرجری کیمپس کے انعقاد کا سلسلہ شروع کیا۔

پاکستان میں مروجہ فری آئی کیمپ سے مراد کسی ایک دن ایک ڈاکٹر سے چیک اپ کروانا اور اس سے دوائی کا نسخہ کا حاصل کرنا لیا جاتا ہے جبکہ منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے زیرانتظام گذشتہ آٹھ سال سے سالانہ فری آئی سرجری کیمپ کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ جس سے ہر سال سینکڑوں مریض مستفید ہوتے ہیں۔

آئی کیمپس کی چند اہم خصوصیات

  1. لاہور کے بڑے ہسپتالوں سے تجربہ کار ڈاکٹرز کی نگرانی میں کیمپ منعقد ہوتے ہیں۔
  2. ان کیمپس میں بین الاقوامی معیار کی ادویات اور سامان استعمال کیا جاتا ہے۔ جبکہ اعلیٰ معیار کے جدید ترین طبی آلات استعمال کیے جاتے ہیں۔
  3. یہ کیمپس ان اضلاع میں لگائے جاتے ہیں جو پسماندہ اضلاع ہیں۔ منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن OPD کیمپس لگانے کے لیے ان پسماندہ اضلاع کے دور دراز علاقوں کوخصوصی طور پر فوکس کرتی ہے۔ جہاں سے لوگوں کا غربت اور جہالت کی وجہ سے علاج کے لیے شہر میں آنا مشکل ہوتا ہے۔ اس طرح MWF کے ذریعے انکو گھر جا کر صحت کی یہ سہولت فراہم کی جاتی ہے۔
  4. ہمارے ڈاکٹرز کی ٹیمیں سرجری کیمپ سے دو ماہ قبل دیہاتی سطح کے دورہ جات کر کے OPD کیمپ لگاتی ہیں۔ جہاں یہ ابتدائی طبی امداد کے مستحق افراد کو موقع پر ہی دوائی فراہم کر دی جاتی ہے۔ جبکہ آپریشن کے قابل مریضوں کوسرجری کیمپ کی تاریخ دے دی جاتی ہے۔ اس طرح سالانہ تقریباً 3000 مریضوں کی آنکھیں چیک کی جاتی ہیں۔
  5. OPD ابتدائی کیمپوں سے بھیجے گئے مریضوں کے تین دن تک آپریشن ہوتے ہیں جس کی نگرانی پروفیسر سطح کے ماہر ڈاکٹر کر رہے ہوتے ہیں۔
  6. آپریشن کے بعد ایک دن تک مریض کو ڈاکٹرز کی نگرانی میں وہیں رکھا جاتا ہے۔ رہائش اور کھانا منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے ذمہ ہوتا ہے۔
  7. ایسے مستحق مریض جن کو آپریشن کے ساتھ ساتھ لینز کی ضرورت ہوتی ہے منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن ان کو مفت لینز فراہم کرتی ہے اور پوسٹ آپریشن آئی ڈراپس اور ادویات بھی دی جاتی ہیں۔
  8. سالانہ بنیادوں پر تقریباً 500 مریضوں کے آپریشن کیے جاتے ہیں۔
  9. متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے مریض بھی اس کیمپ سے مستفید ہوتے ہیں۔
  10. مستحق مریضوں کے مفت آپریشن اور لینز ڈالے جاتے ہیں۔ اس کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جاتی ہے۔ جو مستحق مریضوں کی جانچ پڑتال کرتی ہے۔ اس کمیٹی کے کلیئر کردہ مریضوں کے بالکل مفت آپریشن کیے جاتے ہیں۔
  11. منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے ان کیمپس سے آپریشن کروانے والے مریضوں کو لاوارث نہیں چھوڑ دیا جاتا بلکہ تین ماہ تک مسلسل فالو اپ (چیک اپ) رکھا جاتا ہے۔ جس میں ہمارے ماہر ڈاکٹر ہر پندرہ روز بعد ان مریضوں کا معائنہ کرتے ہیں اور حسب ضرورت دوائی اور احتیاطی تدابیر مہیا کی جاتی ہیں۔
  12. ضلعی حکومتیں ان فری آئی کیمپ کو منظم اور بڑے فلاحی کیمپ قرار دے چکی ہیں۔ حکومتی انتظامیہ علاقے کے غریب عوام کو ان کیمپس کے ذریعے زبردست ریلیف فراہم کرنے پر منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کا کئی مرتبہ باضابطہ شکریہ اد ا کرچکی ہے۔

اب تک کی مکمل رپورٹ :

  • 1998ء سے فری آئی سرجری کیمپس کی تعداد : 10
  • چیک اپ کرانے والے مریض : 26,251 عدد
  • آپریشنز کی کل تعداد : 2,032 عدد
  • آپریشن جنرل آئی چیک اپ کی کل تعداد : 28,283 عدد
  • اب تک کا کل خرچ 55,29,954روپے
  • ایک مریض پر آنے والا اوسط خرچ 2000 (لینز کے اخراجات 10,000 روپے)

مستحق مریضوں کی عملی معاونت :

ایسے مریض جن کو ہسپتالوں میں داخلہ، دیکھ بھال اور دوائیوں کی فراہمی میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ ان کے لیے منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن عملی طور پر خود ڈاکٹروں سے مل کر مریضوں کی مشکلات حل کرواتی ہے۔ اور اگر ضرورت پڑے تو خود مالی تعاون کر کے مریض کے علاج کو یقینی بناتی ہے۔ اس وقت تک 732مریضوں کی عملی معاونت کی جاچکی ہے۔