بیت المال

خط افلاس کی لکیر 457 روپے ماہانہ فی کس سے شروع ہوتی ہے۔ اور پاکستان کی 40 فیصد عوام کی اوسط آمدنی اس سے بھی کم ہے۔ ملک میں اس وقت 6 کروڑ افراد غربت کی دلدل میں غرق ہیں۔ دولت کی غیر منصفانہ تقسیم بلکہ ظالمانہ تقسیم کا یہ نتیجہ ہے۔ وسائل وذرائع آمدن پر غاصبانہ قبضہ ہے۔ مہنگائی سے عوام کی اکثریت غربت و تنگ حالی وتنگ دستی افلاس اور بھوک میں مبتلا ہے۔

بے روزگاری کی وجہ سے زیر کفالت افراد کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ اس وقت 65 افراد  کے حصہ میں 100 افراد  زیر کفالت آتے ہیں۔ جبکہ تیزی سے بڑھتے ہوئے معاشی مسائل کے پیش نظر 2018 میں 40 افراد  کے حصہ میں 100 زیر کفالت  افراد  آئیں گے۔ 1998ء کی مردم شماری کے مطابق ہماری ہاں بے روزگاری کی شرح 19.7 فیصد تھی۔ جس میں مردوں کی شرح 20.2 فیصد اور عورتوں کی شرح 5.1 فیصد تھی۔ اسی طرح صحت کے شعبے میں بھی پاکستان کی صورتحال ابتر ہے۔ ڈاکٹروں سے علاج کرانا اتنا گراں ہو گیا ہے کہ عام ناخواندہ اور غریب لوگوں کا زندہ رہنا مشکل سے مشکل تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔

حقیقت یہ کہ 74 فیصد آبادی کی یومیہ آمدن 120یعنی 2ڈالر سے بھی کم ہے۔ جبکہ سرکاری طور پر ماہانہ اجر کی شرح 4 ہزار روپے ماہانہ ہے۔ گذشتہ 5 سال کے درمیان غریب اور درمیانے درجے کے لوگوں پر اقتصادی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ 5 سال میں چاول کی قیمت 200 فیصد، گھی 110 فیصد، چینی 50 فیصد، آٹا 40 فیصد، بڑا گوشت 150 فیصد اور بکرے کے گوشت کی قیمت میں 100 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ پھلوں اور سبزیوں کی قیمتوں کا تو کوئی ٹھکانہ نہیں۔ ایسے گھرانے بکثرت موجود ہیں جہاں بچے پھل کی شکل بھی نہیں دیکھ پاتے۔

اس تمام صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن نے تعلیم، صحت اور فلاح عام کے میدان میں غریب مجبور اور پسے ہوئے طبقات کی مدد کے لیے ماہانہ بنیادوں پر بیت المال فنڈ کا اجراء کیا۔ اسلامی معاشرے میں بیت المال کی نہایت اہمیت ہے۔ یہ غریب اور نادار لوگوں کی امداد اور بحالی کا ادارہ ہوتا ہے۔ منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن نے شریعت محمدی کی روشنی میں "بیت المال" قائم کیا ہے۔ تاکہ مستحقین کی بروقت امداد کی جاسکے۔ اس سے ایسے افراد کی مالی مدد کی جاتی ہے۔ جو کہ ایک دفعہ کی فوری امداد سے اس پریشانی کی کیفیت سے نکل سکیں۔ مثلاً

  1. چھوٹے کاروبار کے لیے امداد
  2. علاج کے لیے دوائیوں کی فراہمی
  3. بچیوں کی شادی کے لیے معاونت
  4. راشن وغیرہ کی فراہمی
  5. روزگارکی فراہمی

طریقہ کار :

باضابطہ درخواست فارم پر تحریری درخواست وصول کی جاتی ہے۔ سائل کو درخواست کے ساتھ متعلقہ دستاویزات کی نقول لف کرنا ہوتی ہیں۔ ہمارا نمائندہ خود تصدیق کرتا ہے۔ ویلفیئر بورڈ حتمی منظوری دیتا ہے۔

قیام سے اب تک اس سلسلہ میں درج ذیل رقم خرچ کی گئی ہے۔

  • طبی امداد کے لیے دی گئی رقم 41,61,500 روپے
  • جہیز فنڈ کے لیے دی جانے والی رقم 36,38,852 روپے
  • مالی طور پر مجبور لوگوں کو دی گئی رقم 39,78,367 روپے
    ٹوٹل 1,17,78,719 روپے