اجتماعی شادیاں

collective marriages

اسلام نے انسانی معاشرے کی اصلاح کا آغاز ہی تکریم نسواں سے کیا لہٰذا جب اسلام نے حرمت نسواں کی بات کی تو اس کے ظاہر وباطن کی حفاظت کا سامان بھی فراہم کیا تاکہ وہ کسی طرح بھی شرف انسانی کے مقام سے نیچے نہ گر سکے۔ اسلام نے ایک عورت کی معاشرتی وسماجی تقدیس کو برقرار رکھنے کے لیے ارتکاء نسل انسانی کی غرض سے شادی جیسے مقدس فریضے کی ادائیگی کا حکم دیا۔

ہمارے معاشرے کی ستم ظریفی ہے۔ کہ اس میں بیٹی کی شادی جیسا مقدس فریضہ بھی والدین پر بوجھ بن چکا ہے لڑکے والے منہ مانگے جہیز کے منتظر ہیں جس کی وجہ سے والدین بیٹی کی پیدائش کے وقت سے ہی اس کے جہیز کی فکر میں لگ جاتے ہیں۔ باپ اور بھائی پندرہ سے بیس سال محنت کر کے ایک بچی کے جہیز کے سامان کی بمشکل صورت بنا سکتے ہیں۔ ہوتا یوں ہے کہ والدین کی کل زندگی بچیوں کی رخصتی کی نظر ہوجاتی ہے۔ لیکن پھر بھی سب والدین کے لیے ایسا ممکن نہیں ہوتا۔ والدین اور بھائی انتہائی کوشش کے باوجود لڑکے والوں کی ضرورت کے مطابق جہیز تیار نہیں کر سکتے۔ یہ بات بھی دیکھنے میں آتی ہے کہ مایوس ہو کر والدین یابھائی خود کشی کرلیتے ہیں اور بعض دفعہ تو لڑکی خود کوخاندان پر بوجھ سمجھ کر خود کشی کر لیتی ہے اور معاشرہ بے حسی کا پیکر بنا ہوا اس برائی کے ہاتھوں پس رہا ہے۔

ایسے ملکی حالات میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے اس معاشرتی مرض کی بروقت تشخیص کرتے ہوئے اس کے علاج کے لیے عملی قدم اٹھایا اورمنہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے ذریعے ایسے غریب اور نادار گھرانوں کو ان کے اس فریضہ کی ادائیگی میں مکمل عملی ومالی تعاون فرما کر ہزاروں غریب مستحقین کے چہروں پر خوشیاں لوٹا دیں۔

پچھلے چند سالوں میں اجتماعی شادیاں منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کا طرہ امتیاز بن چکا ہے صرف لاہور میں ہی نہیں بلکہ پاکستان کے دیگر کئی شہروں میں بھی اجتماعی شادیوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کی تنظیمات نے مقامی وسائل سے ایسی غریب اور نادار بچیاں جن کے والدین ان کی رخصتی کے لیے جہیز کا سامان نہیں کرسکتے کے لیے اجتماعی شادیوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ ان اجتماعی شادیوں کی چند بنیادی معلومات اور تفصیلات درج ذیل ہیں۔

  1. دلہن کو گھر کی ضرورت کا مکمل جہیز فراہم کیا جاتا ہے۔
  2. دلہا اور دلہن دونوں طرف کے 50/50 مہمانوں کو کھانا فراہم کیا جاتا ہے۔
  3. دلہا اور دلہن دونوں کے مہمانوں کی بھر پور آؤ بھگت کی جاتی ہے۔ اور ان کے بیٹھنے کے لیے عالی شان انتظام کیا جاتا ہے۔
  4. اس بات کا خصوصی طور پر خیال رکھا جاتاہے کہ کسی بھی سطح پر دلہا، دلہن یا ان کے رشتہ داروں کو احساس محرومی نہ ہو اور وہ عزت کے ساتھ اس پروگرام میں شریک ہوں۔
  5. اس موقع پر درج ذیل اشیاء پر مشتمل برائیڈل گفٹ بھی نوبیاہتے جوڑے کو دیا جاتا ہے۔

برائیڈل گفٹ :

  1. جائے نماز
  2. قرآن پاک
  3. سلائی مشین
  4. ٹی سیٹ + کیٹلری سیٹ
  5. ڈنر سیٹ
  6. ڈبل بیڈ + بیڈ شیٹ
  7. رضائیاں
  8. گیس والا چولہا
  9. سوٹ کیس/ بریف کیس
  10. دلہا دلہن کے لیے سوٹ
  11. بڑی پیٹی لوہے والی
  12. چار کرسیاں + ایک ٹیبل
  13. کلر ٹیلی ویژن
  14. DVD پلیر
  15. سونے کا سیٹ
  16. واشنگ مشین
  17. پیڈسٹل فین
  18. 50 افراد کے کھانے کا اہتمام

مجموعی طور پر اس وقت تک 2650 بچیوں کی شادیاں منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے زیرانتظام ہو چکی ہیں۔ جبکہ ایک بچی کی شادی پر تقریباً 150,000 روپے سے 175,000 روپے خرچ آیا ہے۔ مقامی سطح پر ان شادیوں کے لیے مخیر حضرات کا تعاون منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن پر اعتماد کی علامت ہے۔