ویمن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ

پاکستان میں 55 فیصد آبادی خواتین کی ہے جس کا ملکی معیشت میں اہم کردار ہے خواتین کو ہنر مند بنا کر معاشرے اور گھر میں مؤثر مقام دینا معاشرے کی اولین ترجیح ہے اس سلسلے میں خواتین کے لیے دستکاری سکول کمپیوٹر سنٹرز اور فنی تعلیمی ادارے قائم کیے گئے ہیں۔ جہاں خواتین کی فنی تعلیم کا اعلیٰ انتظام موجود ہے علاوہ ازیں بیوہ خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبہ جات میں سلائی اور دستکاری مشینوں کی مفت فراہمی کا بندوبست بھی کیا گیا ہے۔ تاکہ وہ خواتین گھر میں بیٹھ کر باعزت طریقے سے زندگی گذار سکیں۔ بیوہ خواتین کو کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے سے محفوظ رکھنے کے لیے سلائی مشینوں کی فراہمی کا منصوبہ شروع گیا ہے۔ تاکہ وہ بیوہ محنت مزدوری کر کے پیٹ پال سکے اور عزت کی زندگی گزارے۔ اس منصوبے کے تحت اس وقت تک 113 مشینیں فراہم کی جا چکی ہیں۔ جن پر 3,95,500 روپے لاگت آئی۔

عید گفٹ اور راشن سکیم

انسانی بقا کے لیے خوراک سب سے ضروری چیز ہے خوراک اور آبادی کے درمیان موجود رشتہ ایک شک پیدا کرتا ہے کہ آیا خوراک کی موجودہ پیداوار دنیا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کافی ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ 2007ء میں پاکستان کے اندازاً 16 کروڑ سے زائد عوام کی ضروریات پورا کرنے کے لیے خوراک کی پیدا وار میں بہت زیادہ اضافے کی ضرورت ہے۔ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ بیماریوں سے محفوظ رکھنے والی غذائیں ہمارے ہاں بہت کم ہے جو کہ عالمی ادارہ صحت کی تجویز کردہ غذائی ضروریات کے نصف سے بھی کم ہے۔ خوراک کی فی کس پیدا وار میں اضافے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں خوارک کی کمی کی وجہ سے لوگوں میں بیماریوں کی شرح زیادہ ہے۔ اس وقت 10 فیصد سے زائد پاکستانی بچے ناقص غذا سے متاثر ہو رہے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک میں غذائی اجناس کی مانگ میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ لوگوں کے لئے غذائیت والی خوراک کی فراہمی کو ممکن بنانے کی اشد ضرورت ہے۔

یہ ایک حقیت ہے کہ خوراک کی کمی سے متاثرہ افراد کا تعلق غریب اور نچلے طبقے سے ہے اکثر غریب لوگوں کی فاقوں کی وجہ سے موت واقع ہو جاتی ہے۔ اور غربت کے مارے لوگ چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے محروم ہیں۔ عام حالات تو درکنار عیدین کے موقع پر بھی غریب کا بچہ نئے کپڑوں سے محروم رہتا ہے۔ عید والے دن کئی گھروں میں سویاں تک پکنے کی چھوٹی سی خوشی اور رسم بھی نہیں ہو سکتی۔ ایسی صورتحال میں منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے تحت ایسے ہی غریب اور مجبور افراد میں خوشیاں تقسیم کرنے کے لیے عید گفٹ اورخوراک (راشن) سکیم کا آغاز کیا گیا ہے۔ اس سکیم کے تحت غریب اور نادار گھرانوں میں عید کے موقع پر راشن سویاں اور مٹھائی تقسیم کی جاتی ہے۔ جبکہ بچوں کے لیے کپڑے اور مہندی بھی مہیا کی جاتی ہے۔ اسی سکیم کے تحت متاثرین قحط سالی (بلوچستان) کے لیے 25,10,000 کی خوراک بھیجی گئی۔ جبکہ مستقل بنیادوں پر بھی راشن کی فراہمی کے منصوبوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس کے تحت اب تک 18,32,123 روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔