واٹر پمپ انسٹالیشن

پانی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں میں سے ایک گراں قدر نعمت ہے۔ پانی انسانی زندگی کے لیے ایک بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اس کے بغیر زندگی کا تصور بھی ممکن نہیں۔ پانی قدرت کا انمول تحفہ ہے۔ کرہ ارض پر زندگی کے وجود میں معاون عوامل میں پانی کا ایک نمایاں مقام ہے۔ ہماری زمین کا 3/4حصہ پانی پر مشتمل ہے پانی کی اہمیت کودنیا کا ہر ملک تسلیم کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ہر انسان کے لیے روزانہ چار گیلن پانی درکار ہوتا ہے۔ بین الاقوامی معیار کے مطابق شہری آبادی کو 50 کیوبک میٹر فی کس سالانہ یا 30 گیلن فی کس پانی کی ضرورت ہے جس کی فراہمی شہروں میں تو ممکن ہو سکتی ہے لیکن پسماندہ علاقوں میں فی کس ایک گیلن صاف پانی کا حصول بھی جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ کوہستانی اور صحرائی علاقوں میں پانی کے حصول کے لیے بالخصوص خواتین طویل فاصلے طے کرتی ہیں۔ جوہڑوں اور چشموں پر ٹوٹ پڑنے والے انسانوں اور جانوروں کی وجہ سے ان کا آلودہ پانی کئی امراض کا سبب بن جاتا ہے۔ ان میں پیٹ اور گردوں کے علاوہ جلدی امراض بھی شامل ہوتے ہیں۔ پانی کی ایک خوبی یہ ہے کہ یہ اکثر چیزوں کو اپنے اندر حل کر لیتا ہے۔ اس لیے بہت جلد آلودہ ہو جاتا ہے۔ پنجاب اور سندھ کے اندرونی علاقوں میں زیر زمین پانی میں سنکھیا کی شمولیت کی خبریں بھی تشویش ناک ہیں۔ پانی میں سنکھیا کے شامل ہونے سے مختلف قسم کے سرطان لاحق ہو سکتے ہیں۔ ایک لیٹر پانی میں 10 مائیکرو گرام سنکھیا کی مقدار سرطان کا سبب بن جاتی ہے۔ پانی اور صفائی کے مسائل سے پیدا ہونے والی بیماریاں پاکستان میں بچوں کی 60 فیصد اموات کا سبب ہیں پانی کی کمی سے Dehydration پانی اور نمکیات کی کمی کا مرض لاحق ہو جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 80 فیصد بیماریاں ناقص پانی کے استعمال سے جنم لیتی ہیں۔

جنوب مشرقی ایشیاء میں سرطان زیر زمین پانی میں معدنی اجزاء کے گھلاؤ اور چٹانوں کی ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے شامل ہوتا ہے لیکن صنعتی فضلات کے زمین میں جذب ہونے کی وجہ سے زہر آلودگی کی یہ شرح بڑھ رہی ہے۔ پانی میں صنعتی فضلات اور کیڑے مار دواؤں اور کیمیائی کھاد کی شمولیت نے پانی کو غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ ایشیاء میں "سونامی" اور امریکہ میں سمندری طوفان " کترینا" کی تباہ کاریوں کو دیکھتے ہوئے صاف اور محفوظ پانی کی فراہمی کی اہمیت اور افادیت واضح اور ضروری ہو گئی ہے۔ اس کے لیے بروقت اور پیشگی تیاری لازمی اور اہم ہے۔

ماضی میں موسمی تغیرات کے نتیجے میں جہاں پانی کی قلت ہوئی وہاں انسانی آبادیاں نقل مکانی کے سبب ویران ہوتی رہیں موجودہ دور میں سائنسی ترقی کے بل بوتے پر زمین کی گہرائیوں سے مشینی آلات کے ذریعے آبی وسائل کو استعمال میں لانا ممکن ہوا لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی عیاں ہے کہ زیر زمین پانی کے ذخائر بھی محدود ہیں اور توازن کے ایک نظام کے تحت قائم ہیں۔ گذشتہ آٹھ سالوں میں پاکستان کی شہری آبادی میں 10 سے 12 گنا اضافہ ہوا۔ شہری علاقوں میں پانی کی ضروریات میں اضافے کی شرح اس سے بھی زیادہ ہے۔ بین الاقوامی میعار کے مطابق شہری آبادی کو 50 کیوبک میٹر فی کس سالانہ یا 30 گیلن فی کس یومیہ پانی کی ضرورت ہے۔ کوہستانی اور صحرائی علاقوں میں پانی کے حصول کے لیے بالخصوص خواتین طویل فاصلے طے کرتی ہیں۔ جوہڑوں اور چشموں پر ٹوٹ پڑنے والے انسانوں اور جانوروں کی وجہ سے ان کا آلودہ پانی کئی امراض کا سبب بن جاتا ہے۔

پاکستان کے اندر اس وقت تقریباً نصف سے زیادہ آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہے اکثر جگہ پر گندہ پانی ہی پینے کو دستیاب ہے۔ جس کی وجہ سے خطرناک بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے بعض جگہوں پر خواتین کئی کئی میل کا فاصلہ طے کر کے پینے کے لیے ایک وقت کا پانی لے کر آتی ہیں۔ اس ضرورت کے پیش نظر ملک بھر میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے منصوبے کا آغاز کیا ہے جس کے تحت مجموعی طور پر تقریباً 500 بڑے واٹرپمپ اور تقریباً 4000 سے زائد چھوٹے واٹرپمپ لگائے جا چکے ہیں۔ ہر بڑے واٹرپمپ پر 50000 روپے جبکہ چھوٹے واٹرپمپ پر 18000 روپے کے اخراجات خرچ آتے ہیں۔ ان واٹرپمپس کی نگرانی گلوبل پوزیشننگ سسٹم (GPS) کے تحت کی جاتی ہے جبکہ ابھی پمپس کی تنصیب جاری ہے، اس منصوبہ کے تحت درج ذیل اضلاع میں واٹر پمپس لگائے گئے ہیں۔

پنجاب

  1. لاہور
  2. اسلام آباد
  3. راولپنڈی
  4. شیخوپورہ
  5. جھنگ
  6. لیہ
  7. ڈیرہ غازی خان
  8. مظفر گڑھ
  9. ملتان
  10. بہاولپور
  11. سرگودھا
  12. گوجرنوالہ
  13. جہلم
  14. گجرات
  15. فیصل آباد
  16. میانوالی
  17. عمرکوٹ
  18. گوجر خان
  19. میراں بیگووال
  20. گوجرا
  21. شورکوٹ
  22. لودھراں
  23. رحیم یارخان
  24. نارووال
  25. راجن پور
  26. روجھان

سندھ

  1. تھرپارکر
  2. جیکب آباد
  3. شکارپور
  4. میرپور خاص
  5. سکھر
  6. مٹھی
  7. لاڑکانہ
  8. نوڈیرو
  9. شہدادکوٹ

بلوچستان

  1. جعفر آباد
  2. نصیر آباد
  3. صحبت پور
  4. جھٹ پٹ

خیبرپختونخوا

  1. مانسہرہ
  2. کوہاٹ
  3. مردان

آزاد کشمیر

  1. مظفرآباد
  2. پلندری
  3. میر پور
  4. تراڑکھل
  5. کوٹلی (باغ)
  6. مالاکنڈ
  7. راولاکوٹ