قدرتی آفات کے متاثرین کی بحالی

ملک پاکستان یا پاکستان سے باہر جس سطح پر بھی خدانخواستہ کوئی قدرتی آفت آتی ہے تو منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن اس قدرتی آفت کے متاثرین کی بحالی اور امداد کے لیے ہمیشہ پیش پیش رہی ہے۔ اس کی کارکردگی درج ذیل ہے۔

نوٹ : یہ کوائف مقامی تنظیمات سے حاصل کردہ ڈیٹا کی بنیاد پر تیار کیے گئے ہیں جو کہ انہوں نے خود ارسال کیا۔

1 افغان اور کشمیری مہاجرین کی امداد 47,00,318
2 متاثرین سیلاب (اندرون سندھ) 20,10,000
3 متاثرین قحط سالی (بلوچستان) 25,10,000
4 متاثرین بارش (گلگت) 2,00,000
5 متاثرین سیلاب (نالہ لئی راولپنڈی) 9,00,000
6 متاثرین زلزلہ (بام ایران) 55,00,000
7 متاثرین سونامی (انڈونیشیاء) 1,00,00,000
8 متاثرین برف باری (مری، ایبٹ آباد، مانسہرہ) 10,00,000
9 متاثرین بارش نصیر آباد۔ پسنی وغیرہ 5,00,000

قیام سے اب تک ان تمام آفات میں مجوعی طور پر 2,73,20,318 (دو کروڑ تہتر لاکھ بیس ہزار تین صد اٹھارہ) روپے خرچ کیے گئے۔

سمندری طوفان (سونامی)

مورخہ 26 دسمبر 2004ء کو ساؤتھ ایشیاء میں آنے والے زلزلے اور سونامی نے انڈونیشیاء، سری لنکا اور تھائی لینڈ سمیت دنیا کے 12 اہم ممالک کو اپنی تباہ کاریوں کی لپیٹ میں لے لیا جس کے نتیجے میں ہزاروں دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے ان گنت شہر تباہ ہوئے۔ بڑی بڑی مضبوط عمارات منہدم ہو گئیں لاکھوں لوگ لقمہ اجل بنے کئی ملین افراد بے گھر اور بے آسرا ہو گئے۔ ان مصیبت زدہ اور تباہ حال لوگوں کے علاج معالجے، خوراک، رہائش اور نئے سرے سے بحالی میں مدد کے لیے پوری دنیا میں سرکاری وغیر سرکاری اور انفرادی واجتماعی سطح پر مختلف تنظیموں نے بھرپور طریقے سے فنڈز جمع کرنے کے لیے مہمات چلائیں وہاں منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن بھی اس کاوش میں کسی دوسری ویلفیئر تنظیم سے پیچھے نہیں رہی۔

منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن نے سونامی سے متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے انڈونیشیاء کے صوبہ بند اچے میں اپنی خدمات سرانجام دیں۔ منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن نے آچے کے متاثرہ علاقوں میں امدادی پیکج کے لیے فیز - 1 کے طور پر ایمرجنسی ریلیف ایڈ اور مسجد "رحمت اللہ" کی مرمت کے علاوہ جو خدمات سرانجام دیں وہ درج ذیل ہیں۔

  1. مکانات کی تعمیر
  2. فشنگ بوٹس کی فراہمی
  3. 120 خاندانوں کو روزگار کی فراہمی
  4. واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کی فراہمی
  5. آچے کے یتیم بچوں کے لیے منہاج یونیورسٹی لاہور (پاکستان) میں سکالرشپ
  6. اس منصوبے پر ایک لاکھ امریکن ڈالر خرچ ہوئے۔

متاثرین زلزلہ (کشمیر)

مورخہ 8 اکتوبر کی صبح کشمیر، شمالی علاقہ جات، سرحد کے بعض اضلاع اور اسلام آباد میں اچانک شدید قسم کا زلزلہ آنے سے قیامت صغریٰ برپا ہوئی۔ جس سے ہنستے بستے شہر، بازار، کاروباری مراکز، تعلیمی ادارے، مواصلاتی نظام، ہسپتال، دیہات، اور پہاڑوں پر پھیلی ہوئی چھوٹی چھوٹی آبادیاں اور گھر تباہ وبرباد ہوئے خوبصورت رہائشی مکانات اور مضبوط عمارات آناً فاناً ملبے کا ڈھیر بن گئیں، لاکھوں افراد لقمہ اجل بن گئے، ہزاروں لوگ ملبے کے نیچے دب گئے، بے شمار لوگ زخمی ہو گئے، ہزاروں بچے، مرد اور عورتیں زندگی بھر کے لیے معذور اور اپاہج ہو گئے، لاتعداد بچے والدین کے سایہ عاطفت سے محروم ہو گئے، ان گنت بوڑھے والدین بے سہارا اور بے آسرا اور ہزاروں خواتین بیوہ ہو گئیں۔

غیر معمولی تباہی دیکھ کر بڑی تعداد میں لوگ ہوش وحواس گم کر بیٹھے، لاکھوں لوگ بے گھر ہو گئے۔ کروڑوں کے کاروبار اور سازو سامان مٹی کے ڈھیر میں بدل گئے۔ یک لخت مکانوں کی چھتیں اور دیواریں گرنے سے اہل خانہ پر جو قیامت صغریٰ ٹوٹی اور آہ و بقاء کے دل گداز مناظر دیکھنے میں اور سننے میں آئے اور پھر جس طرح پختہ راستے، سڑکیں، حتیٰ کے پہاڑ بھی پھٹ گئے۔ اور عینی شاہدین کے مطابق صرف کئی منزلہ عمارات ہی نہیں بلکہ متعدد دیہات بھی زمین کے اندر دھنس گئے اور یوں ہنستی بستی پررونق انسانی آبادیاں صفحہ ہستی سے مٹ گئیں۔

اس اندوہناک سانحہ میں خوش قسمتی سے جو چھوٹے بڑے لوگ اور مردو خواتین زندہ بچ گئے ہیں اموال واملاک کاروبار اور گھر خویش و اقارب، دوست احباب اور اہل واعیال کی ہلاکت کے بعد ان کی زندگی کتنی دوبھر ہوگئی ہے۔ مصائب وآلام کے کتنے پہاڑ ان کے سامنے کھڑے ہو گئے ہیں کتنی مشکلات درپیش ہیں جان جوکھوں اور پیٹ کاٹ کر بڑی چاہتوں اور خواہشوں بلکہ بڑی قربانیوں سے تیار کیے گئے گھروں کے آنکھوں کے سامنے ملبے کا ڈھیر بننے کے بعد اس مہنگائی کے دور میں دوبارہ حسب منشاء وتمنا گھروں کی تعمیر کتنی مشکل ہے۔ یتیم اور بے سہارا بچوں کا وارث کون بنے گا؟ معذور اور اپاہج لوگوں کو کون سنبھالے گا؟ بیوہ عورتوں کی کفالت کون کرے گا؟ اس ہمہ جہتی تباہی و بربادی کے تمام اہل وطن پر معاشی ومعاشرتی اعتبار سے کتنے بڑے اثرات پڑے ہیں؟

امتحان و آزمائش کی اس گھڑی میں منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن نے زلزلہ سے متاثرہ لوگوں کی بحالی، مکانات کی تعمیر نو ملبے کے نیچے سے دبے لوگوں کو نکالنے زخمیوں کے علاج معالجے، خوراک، کپڑے، کمبل، خیمے وغیرہ متاثرین تک پہنچانے خیمہ بستیوں اور خیمہ سکولز کا قیام تمام متاثرہ علاقوں کی تعمیری منصوبہ بندی اور لاکھوں متاثرین کی فوری مدد کے لیے کروڑوں روپے کے فنڈز کی فراہمی اور متاثرین کی مستقل بحالی کے لیے متعدد اقدامات کئے ہیں اور منصوبے بنائے ہیں اور مسلسل مساعی کر رہی ہے۔

مورخہ 8 اکتوبر کے تباہ کن زلزلہ میں منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن نے متاثرہ علاقوں میں 15خیمہ بستیاں قائم کی ہیں۔ جس میں مظفرآباد، بالاکوٹ، باغ، بٹگرام، وادی نیلم، چکوٹھی، وغیرہ شامل ہیں۔ ان بستیوں میں موجود کم و بیش 1500 خاندان 6 ماہ تک منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے زیر کفالت رہے۔ جہاں عارضی رہائش، خوراک، لباس، جستی چادریں، ادویات، فری میڈیکل سروس اور فری ایمبولینس سروس، تاحال مہیا کی جا تی رہی۔ اس کے علاوہ نقدی کی صورت میں کروڑوں روپے ریلیف دیا جا چکا ہے۔ اس وقت مجموعی طور پر 25 کروڑ روپے سے زائد خرچ کئے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ 600 شیلٹرز ہوم بنائے گئے علاوہ ازیں زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں سکولز اور مساجد کے قیام کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس منصوبہ پر 1,25,00,000 روپے کا تخمینہ ہے۔