قحط متاثرین تھرپارکر میں راشن کی تقسیم

60 لاکھ روپے سے زائد کا سامان قحط سے متاثرہ خاندانوں میں تقسیم
متاثرہ علاقوں میں میڈیکل کیمپ بھی لگائے جا رہے ہیں

تھرپارکر (سندھ)… منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کا وفد متاثرین تھر کے لیے امدادی سامان کے 10 ٹرک لے کر پہنچا، جہاں وفد نے میر پور خاص، ڈگری، مٹھی، اسلام کوٹ، ننگر پارکر اور چھاچھرو کے متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان تقسیم کیا، جس میں آٹا، چاول، کوکنگ آئل، چینی، سرخ مرچ، دال چنا، بسکٹ، دودھ، نمک اور ڈیڑھ لیٹر کی 30 پانی کی بوتلیں فی خاندان شامل ہیں۔ فاؤنڈیشن کی طرف سے 60 لاکھ روپے سے زائد کا سامان 500 متاثرہ ہندو اور 500 مسلمان خاندانوں میں تقسیم کیا گیا، جس کا بہت بڑا کیمپ کوٹ اسلام میں قائم مندر سنت نیٹورام آشرم میں لگایا گیا۔ علاوہ ازیں منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن نے تھر کے ان متاثرہ علاقوں میں امدادی کیمپ قائم کر دیے ہیں، جہاں پاکستان عوامی تحریک، تحریک منہاج القرآن اور منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے رضاکار بلا امتیاز رنگ ونسل و جنس و مذہب خدمت انسانیت کے لیے کوشاں ہیں۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر عین الحق نے کہا کہ تھر کے قحط زدگان کی مدد کرنا ہمارا دینی، قومی و ملی فریضہ ہے۔ عوام کے تعاون سے تھر کے متاثرین کے لیے غذائی اجناس، پانی، کپڑے، ادویات اور دیگر ضروری سامان متاثرہ علاقوں میں پہنچایا جارہا ہے۔ ماہر ڈاکٹر وں کی سربراہی میں متاثرہ علاقوں میں میڈیکل کیمپ بھی لگائے جارہے ہیں اور منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن جلد ہی متاثرہ علاقوں میں پانی کی فراہمی کیلئے واٹر پمپ لگانے کے منصوبے کیلئے عملی اقدامات کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ خشک سالی کے باعث تھر میں جنم لینے والے حالات نے پوری قوم کو حکمرانوں کی بے حسی اور کارکردگی کے بارے میں سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔ کچی جھونپڑیوں میں زندگی گزارنے والے متاثرین کی آنکھوں میں امید کی کرنیں بجھتی نظر آرہی ہیں، بھوک سے نڈھال بچوں کی سسکتی ہوئی آوازیں دل کو دہلا دیتی ہیں۔ تھر کی خشک سالی کی سنگین صورتحال نے معصوم لوگوں کو جس اذیت میں مبتلا کر دیا ہے، اس کے ذمہ دار اپنا احتساب کرنے کو تیار نظر نہیں آتے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست اور حکومت کی اپنے عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کی ذمہ داریاں آئین میں واضح درج ہیں۔ تھر کے مظلوم عوام کو ان کے بنیادی حقوق کی فراہمی میں وفاقی اور صوبائی حکومتیں ناکام ہوچکی ہیں۔ غذائی قلت اور بیماری کی وجہ سے سینکڑوں معصوم بچوں کی ہلاکت انسانی تاریخ کا المناک سانحہ ہے۔ 18 کروڑ عوام سے زائد آبادی کا ملک خوراک کے معاملے میں پوری طرح خود کفیل ہے۔ اس کے باوجود کرپٹ سیاسی نظام اور نا اہل سیاستدانوں نے مظلوم پاکستانیوں کے حق پر ڈاکہ ڈال رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وقت سے پہلے مناسب اقدامات کر لیے جاتے تو محض فاقہ کشی اور بیماری کی وجہ سے کوئی بھی قیمتی جان ضائع نہ ہوتی۔ ہر حکومت نے تھر کے مظلوم عوام کو ترقیاتی منصوبہ بندیوں سے محروم رکھا۔ جس کی وجہ سے آج بھی ملک کے دیگر علاقوں کی نسبت تھر میں غربت سب سے زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر طاہر القادری نے اپنے مظلوم عوام کی مدد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات کی روشنی میں اپنا ملی فریضہ سمجھتے ہوئے کی ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے کہ "وہ شخص مومن نہیں ہو سکتا جو خود تو پیٹ بھر کر کھائے اور اسکا پڑوسی بھوکا سوئے"۔ انہوں نے حکومت کو متنبہ کیا کہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کیلئے تھر کے مظلوم عوام کی ترقی کیلئے خصوصی منصوبہ بندی کی جائے اور انہیں بنیادی انسانی سہولتیں فوری مہیا کی جائیں۔ اس موقع پر تحریک منہاج القرآن کے ناظم تنظیمات رفیق نجم، عبدالحفیظ چوہدری، سندھ کے امیر سید مخدوم ندیم ہاشمی، ندیم نقشبندی، ریاض نقشبندی و دیگر بھی موجود تھے۔

ہندو برادری کے رہنماء اور سنت نینو رام آشرم کے خصوصی پجاری نند لال نے اس موقع پر منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے فلاحی کاموں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر محمد طاہر القادری سندھ کے قحط زدہ عوام کیلئے جو کاوشیں کر رہے وہ تاریخ میں یاد رکھی جائینگی، ہندو برادری ان لازوال کوششوں پر انہیں خراج تحسین پیش کرتی ہے۔