منہاج القرآن انٹرنیشنل کے مرکزی قائدین کی ایک شام آغوش کے بچوں کے نام

منہاج القرآن انٹرنیشنل کے مرکزی قائدین نے مورخہ 04 مئی 2012ء بروز جمعہ کو منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام چلنے والے عظیم فلاحی منصوبہ آغوش کے بچوں کے ساتھ ایک شام گزاری اور حفظ کرنے والے طلباء کی دستار بندی کی۔

تقریب کی صدارت ناظم اعلیٰ ڈاکٹر رحیق احمد عباسی نے کی جبکہ مہمان خصوصی منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن یوکے اور یورپ کے ڈائریکٹر علامہ حافظ محمد اقبال اعظم تھے۔ ان کے علاوہ فیض عالم(ناروے)، میلاد رضا قادری(برطانیہ)، جیونیوز کے اینکرمنیب احمد، روزنامہ دن کے ایڈیٹر میاں حبیب احمداور معروف صحافی اور کالم نویس محمد اجمل نیازی نے بھی شرکت کی۔ معزز مہمانوں کے علاوہ سینئرنائب ناظم اعلیٰ شیخ زاہد فیاض، ناظم امور خارجہ راجہ جمیل اجمل، پرنسپل سیکرٹری ٹوحضور شیخ الاسلام جی ایم ملک، نائب ناظم اعلیٰ پبلی کیشن رانا فاروق احمد، نائب ناظم اعلیٰ رانا فیاض احمد، ناظم مالیات محمد جاوید اقبال قادری، منہاج گرائمر سکول کے پرنسپل کرنل(ر) محمدسعید، ناظم اجتماعات محمد جواد حامد، ڈائریکٹر انٹر فیتھ ریلیشن سہیل احمد رضا، ڈائریکٹر آغوش صفدر عباس، وائس پرنسپل COSIS میجر علی رضوی،امجد شاہ، مقصود احمد قادری، اور دیگر مرکزی قائدین نے شرکت کی۔

تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا، آغوش کے طلباء نے آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں نعتوں کی صورت میں گلہائے عقیدت پیش کئے۔ برطانیہ سے آئے مہمان نعت خواں میلاد رضا قادری نے اپنے خوبصورت انداز میں آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں ہدیہ عقیدت اردو وانگلش میں پیش کیا۔ ناظم اعلیٰ ڈاکٹر رحیق احمد عباسی نے منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے عظیم منصوبہ آغوش کا تفصیلی تعارف کرایا اور اس کی ورکنگ کے حوالہ سے مہمانوں کو آگاہ کیا اور خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ اس بلڈنگ میں 500 یتیم اور بے سہارا بچوں کو داخلہ دیاجائےگا جس کے لئے پاکستان بھر کی تنظیمات کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ وہ اپنے اپنے علاقوں سے یتیم اور بے سہار ا بچوں کی ایک نظام کے تحت سلیکشن کر کے سفارش کریں تاکہ انہیں آغوش میں داخلہ دیا جائے۔ اس کے علاوہ منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کا دوسرا منصوبہ جو 300 بچیوں کے لئے ہوگا بیت الزھراہ کے نام سے شروع ہو چکا ہے۔

منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن یورپ و برطانیہ کے ڈائریکٹر علامہ حافظ محمد اقبال اعظم الازہری نے آغوش کے پلان سے لے کر تکمیل تک کے مراحل کا ذکرکیا اور اس میں بیرون ملک تنظیمات افرادکے تعاون پر روشنی ڈالی۔انہوں نے بتایا کہ آغوش میں ایک نظام کے تحت طلباء کو داخلہ دیا جاتا ہے جن کی ضروریات زندگی کا خیال منہاج ویلفیئر فاؤنڈیش کے ذمہ ہے، بچوں کی تعلیم وتربیت، ٹیوشن فیس، ہاسٹل فیس، جیب خرچ سے لے کر کپڑوں، جوتوں تک کے اخراجات منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کرتی ہے اور یہ سب منہاج القرآن سے وابستہ افراد کے ذریعے ہوتا ہے۔

جیو نیوز کے اینکر منیب احمد نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں نے منہاج القرآن اور ڈاکٹر محمد طاہر القادری کے بارے میں تو بہت سنا ہے اور ان کی دل سے قدر کرتا ہوں مگر میں حیران ہوں کہ ٹی وی چینل پر بیٹھ کر پوری دنیا کی باتیں کرتا ہوں مگر اپنے شہر لاہور میں منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے عوامی خدمت کے عظیم فلاحی منصوبہ آغوش سے بے خبر رہا، مگر میں شکریہ ادا کرتا ہوں اپنے میڈیا کے احباب کا خصوصا ً حفیظ چودھری صاحب کا جنہوں نے مجھے دعوت دی اور مجھے یہ سب دیکھنے اور سننے کا موقع ملا۔میں اپنے حلقہ احباب میں اس کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کروں گا۔ یقینا ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب نے وہ کام کردکھایا ہے جوسرکاری طور پر حکمران نہ کرسکے، اتنی وسیع، خوبصورت، کشادہ بلڈنگ منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کی پہچان ہے اور یہ قابل تحسین ہے۔

معروف صحافی و کالم نویس محمداجمل نیازی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی خدمات کو سلام پیش کیا اور کہا کہ میں پہلے دن سے منہاج القرآن سے محبت و عقیدت کا تعلق رکھتاہوں اور مجھے یہاں آکر ایک عجیب سی فرحت اور اپنائیت محسوس ہوتی ہے اور میرے اسے اپنا گھر ہی سمجھتا ہوں۔ منہاج القرآن سے وابستہ ذمہ داران مجھے بہت عزت دیتے ہیں۔ میں نے منہاج القرآن کے تقریبا ہر پروگرام میں شرکت کی۔ شیخ الاسلام کے کردار، سوچ پر کالم لکھے مگر منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کا یہ عظیم منصوبہ آغوش میرے لئے بالکل نیا ہے۔ بڑے بڑے سرکاری عہدیداران، حکومتی اہلکاروں اور اداروں کو یہ توفیق نہیں ہوئی مگر منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن نے یہ عظیم کارنامہ سرانجام دے دیا ہے۔ میں دعوے سے کہتاہوں کہ میں نے اس بلڈنگ کا وزٹ کیا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومتی پیسوں اور غیر ملکی امداد سے بننے والے یتیم خانے بھی اسی فلاحی منصوبہ کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔

تقریب میں آغوش کے بچوں کی خوشیوں کو منانے اور انہیں اپنائیت کے احساس دلاتے ہوئے تمام بچوں کی اجتماعی سالگرہ کا کیک کاٹا گیا۔ آغوش کی انتظامیہ نے 23 پاؤنڈ کا کیک تیار کروایا جس کو آغوش کے تمام بچوں نے معزز مہمانوں کے ساتھ مل کر کاٹا اور بعد ازاں بچوں نے خود مہمانوں کو کیک Serve کیا۔تقریب میں بچوں اور مہمانوں کی انٹرٹینمنت کے لئے تفریحی پروگرام بھی رکھے گئے جن میں جوکر اور میوزیشن کے کردار قابل ذکر ہیں۔ پروگرام کے اختتام پر آغوش کے ان بچوں جنہوں نے قرآن پاک حفظ کیا ان کی دستار بندی کی گئی۔ تقریب کا اختتام دعائے خیر سے ہوا جبکہ معزز شرکاء کے لئے ایک پرتکلف ڈنر کااہتمام کیا گیا جس میں آغوش کے بچے اور معززمہمان وقائدین گل مل گئے۔

رپورٹ: محمد وسیم افضل