آغوش (یتیم اور بے سہارا بچوں کی کفالت، تعلیم و تربیت اور رہائش کا عظیم الشان منصوبہ)


ڈاؤنلوڈ

پیغام

اسلام یتیموں، مسکینوں، بیواؤں، بے سہارا اور غریب طبقے کو سہارا دینے، ان کی مکمل کفالت کرنے، ان سے پیار کرنے اور انہیں کھانا کھلانے، انہیں وسائل مہیا کرنے اور انہیں آسودگی فراہم کرنے کی ناصرف ترغیب دیتا ہے بلکہ معاشرے کے بے کس، محروم، نادار طبقے اور سوسائٹی کے محتاج، بے سہارا اور معصوم بچوں کی کفالت کے اہتمام کا حکم بھی دیتا ہے۔ معاشرے کے اس طبقے کو محروم رکھنے والوں کے لیے اسلام نے سخت وعید سنائی ہے اور کہا ہے کہ دین اسلام کو جھٹلانے والے وہ لوگ ہیں جو یتیموں کو دھکے دیتے ہیں، ان سے پیار نہیں کرتے، ان کی کفالت نہیں کرتے اور انہیں آسودگی دینے پر اپنا مال خرچ نہیں کرتے۔ وہ یتیموں کی ایسی کفالت نہیں کرتے جیسے اپنے بچوں کی کرتے ہیں۔ معاشرے کے ایسے افراد جو وسائل رکھتے ہوئے بھی اپنے مال سے یتیموں اور محتاجوں کا حصہ نہیں نکالتے ان کی نمازیں، حج و دیگر اعمال اللہ رب العزت رد فرما دیتا ہے۔

ایسے لوگوں کو دوزخ کے عبرتناک عذاب کی وعید سنائی گئی ہے کہ جو اپنی نمازوں کی تو بڑی فکر کرتے ہیں مگر سوسائٹی کے محروم و محتاج بچوں کے سروں پر سایہ نہیں بنتے۔ انہیں اپنی نماز کا تو بڑا فکر رہتا ہے مگر وہ ان محتاجوں، یتیموں اور بیواؤں کی فکر نہیں کرتے، ایسے نمازیوں کو قرآن پاک میں ریاکار کہا گیا ہے، جو نمازیں تو پابندی سے پڑھتے ہیں، لیکن وہ نماز کی اصل روح سے غافل ہیں، دراصل یہ نمازیں ان نادار اور بے بس وبے کس طبقے کی مدد کا سبق دیتی ہیں۔ جو لوگ محتاج طبقے کو برتنے کی کوئی معمولی چیز مانگنے پر بھی نہیں دیتے اور وہ ان محتاجوں کو دھتکار دیتے ہیں، انہیں بخیل کہا گیا ہے۔

سورہ الفجر میں ارشاد ربانی ہے "کچھ لوگ دوزخ میں پھینک دیئے جائیں گے۔ ان سے جنتی پوچھیں گے کہ تمھیں دوزخ میں کیوں ڈالا گیا؟ وہ کہیں گے کہ ہمیں دوزخ میں اس لیے ڈالا گیا کہ

کَلَّا بَلْ لَّا تُکْرِمُوْنَ الْیَتِیْمَ o

(سورہ الفجر آیت نمبر 17)

ہم اپنے مال و وسائل سے یتیموں کی کفالت نہیں کرتے تھے، انہیں معاشرے میں باعزت مقام نہیں دیتے تھے، انہیں آغوش میں نہیں لیتے تھے۔ ہمیں اپنے مال سے بہت محبت تھی، غریبوں مسکینوں سے محبت نہیں کرتے تھے۔

منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن مبارک باد کی مستحق ہے کہ اس نے معاشرے کے ایسے محروم، محتاج، بے کس وبے بس یتیموں کو سہارا دینے اور ان کی مکمل کفالت کا اہتمام کیا ہے یہی دین کی اصل روح ہے۔ معاشرے کا وہ طبقہ جنہیں اللہ رب العزت نے وسائل دے رکھے ہیں ان کے وسائل میں ایسے یتیموں، بے سہارا محتاجوں اورمسکینوں کا بھی حق ہے۔ منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن نے مرکزی سطح پر 500 بچوں کی مکمل کفالت کے لیے ’’آغوش‘‘ کا ادارہ قائم کیا ہے اور ملک بھر میں اس کی شاخیں قائم کی جا رہی ہیں۔ وسائل رکھنے والے احباب و طبقات یتیم بچوں کی مکمل کفالت کے لیے منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کا ساتھ دیں، اللہ اور اس کے رسول پا ک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشنودی حاصل کریں۔ یہ وہ عظیم اجر ہے جو ساری زندگی روزہ رکھنے اور رات بھر کے قیام سے بھی حاصل نہیں ہو سکتا۔ یہ اسلام کا وہ تصور انفاق و ویلفیئر ہے جس کی مثال پوری دنیا میں نہیں دی جاسکتی۔

اغراض و مقاصد

منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن ایک بین الاقوامی فلاحی و رفاعی تنظیم ہے جو معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کی منفعت کے لیے انہیں ہر شعبہ زندگی میں مدد و تعاون فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن امداد باہمی کے تصور کے تحت معاشرے کے خوشحال طبقے کے ساتھ مل کر متاثرہ و بدحالی میں مبتلا طبقے کو عزت واحترام کے ساتھ انہیں خوشحال زندگی گذارنے کے لیے اعانت فراہم کرتی ہے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے عظیم اسلامی تصور کے تحت معاشرے کے غریب، یتیم اور بے سہارا بچوں کے لیے منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے تحت "آغوش" کا ادارہ قائم کیا ہے۔

اسلام سلامتی کا دین ہے۔ اس کا عطا کردہ تصور فلاح و بہبود صرف نظریہ اور عقیدہ کی حد تک محدود نہیں بلکہ عملاً ایک نظام کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسلام میں باہمی معاشرتی و معاشی تعاون کا اصول قرآن و سنت کی نص سے واضح ہوتا ہے۔ ایسے غریب اور بے سہارا بچے جن کے سروں سے اس دنیا میں ان کے والدین کا سایہ اُٹھ چکا ہے ان کی بہترین پرورش اور تعلیم وتربیت معاشرے کی ذمہ داری بن جاتی ہے۔ ارشاد ربانی ہے:

ترجمہ: "اور ان کے اموال میں سائل اور محروم (سب حاجت مندوں) کا حق مقرر تھا۔ "

(سورہ الذاریٰت 51۔ آیت نمبر 19)

سورۃ الماعون میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا۔

ترجمہ: "کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جو دین کو جھٹلاتا ہے؟ تو یہ وہ شخص ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے (یعنی یتیموں کی حاجات کو رد کرتا اور انہیں حق سے محروم رکھتا ہے)o اور محتاج کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا (یعنی معاشرے سے غریبوں اور محتاجوں کے معاشی اِستحصال کے خاتمے کی کوشش نہیں کرتا)o پس افسوس (اور خرابی) ہے ان نمازیوں کے لیےo جو اپنی نماز (کی روح) سے بے خبر ہیں (یعنی انہیں محض حقوق اﷲ یاد ہیں حقوق العباد بھلا بیٹھے ہیں)o وہ لوگ (عبادت میں) دکھلاوا کرتے ہیں (کیوں کہ وہ خالق کی رسمی بندگی بجا لاتے ہیں اور پسی ہوئی مخلوق سے بے پرواہی برت رہے ہیں)o اور وہ برتنے کی معمولی سی چیز بھی مانگے نہیں دیتےo (آیت نمبر 1 تا 7۔ ترجمہ عرفان القرآن)

ایک اور جگہ ارشاد ربانی ہے۔

ترجمہ: "مگر انسان (ایسا ہے) کہ جب اس کا رب اسے (راحت وآسائش دے کر) آزماتا ہے اور اسے عزت سے نوازتا ہے اور اسے نعمتیں بخشتا ہے تو وہ کہتا ہے میرے رب نے مجھ پر کرم فرمایا۔ لیکن جب اسے (تکلیف و مصیبت دے کر) آزماتا ہے اور اس کا رزق تنگ کرتا ہے تو وہ کہتا ہے: میرے رب نے مجھے ذلیل کر دیا یہ بات نہیں بلکہ (حقیقت یہ ہے کہ عز ت اور مال و دولت کے ملنے پر) تم یتیموں کی قدر و اکرام نہیں کرتے اور نہ تم مسکینوں (یعنی غریبوں اور محتاجوں) کو کھانا کھلانے کی (معاشرے میں) ایک دوسرے کو ترغیب دیتے ہو۔ اور وراثت کا سارا مال سمیٹ کر (خود ہی) کھا جاتے ہو۔ (اس میں افلاس زدہ لوگوں کا حق نہیں نکالتے) اور تم مال ودولت سے حد درجہ محبت رکھتے ہو۔ (سورۃ الفجر: آیت 15 تا 20 ترجمہ عرفان القرآن)

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی ہدایت پر منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن (MWF) نے معاشرے کے ایسے بے سہارا، یتیم بچوں کے لیے ادارہ ’’آغوش‘‘ قائم کیا ہے۔ جن سے دنیا میں باپ کا سایہ چھن چکا ہو۔ MWF نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں یتیم اور بے سہارا بچوں کی کفالت اور تعلیم و تربیت کا ایک جامع منصوبہ تیار کیا ہے۔ مرکزی سطح پر یہ ادارہ آغوش 500 یتیم اور بے سہارا بچوں کی مکمل کفالت کا ادارہ ہوگا۔ اس وقت 50 بچے زیر کفالت اور زیر تعلیم ہیں۔ اس سال جون 2010 میں آغوش کی عمارت کا فیز I جس میں بیسمنٹ اور گراؤنڈ فلور شامل ہے، مکمل ہوچکا ہے۔ جس میں مزید نئے بچوں کو داخل کیا جا رہا ہے۔ پورے ملک میں ادارہ آغوش کی مزید شاخیں قائم کی جا رہی ہیں۔ اسی سلسلے میں کراچی اور ملتان میں بھی آغوش کی عمارت کی تعمیر شروع ہو چکی ہے۔ جبکہ سیالکوٹ، سرگودھا اور دیگر بڑے شہروں میں آغوش کے لیئے زمین حاصل کرلی گئی ہے جس پر تعمیر اتی و مالیاتی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ اس عظیم الشان منصوبے کے حسب ذیل مقاصد رکھے گئے ہیں۔

  1. باپ کے سائے اور ماں کی آغوش سے محروم بچوں کی کفالت اور تعلیم وتربیت کا شاندار اہتمام کرنا۔
  2. بچوں کی جسمانی، تعلیمی، تربیتی، ذہنی، نفسیاتی اور روحانی نشوونما اور ارتقاء کا اہتمام کرنا۔
  3. بچوں کو معاشرے کا مفید اور معزز شہری بنانا۔
  4. یتیم اور بے سہارا معصوم بچوں کو محفوظ چھت فراہم کرنا۔
  5. بچوں کی اعلیٰ تعلیم وتربیت کے ذریعے ان کے مستقبل کو محفوظ بنانا۔
  6. یتیم بچوں کو معاشرے کا کارآمد اور قابل فخر انسان بنانا۔
  7. عالمگیر اخوت کے لیے ذہن استوار کرنا۔
  8. نظریہ پاکستان کی تفہیم کا اہتمام کرنا۔
  9. اسلامی نظریہ حیات کو بچوں کی ذاتی اور اجتماعی زندگی میں سمونا۔
  10. بچوں میں جذبہ حب الوطنی پیدا کرنا۔
  11. بچوں میں مسائل حل کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا۔
  12. بچوں میں محنت ومشقت کا جذبہ پیدا کرنا۔

آغوش عمارت کی تعمیر

1۔ یتیم و بے سہارا بچوں کی کفالت کا ادارہ "آغوش" جو کہ پانچ منزلہ عمارت پرمشتمل ہے۔ جس میں بیسمنٹ سمیت چار منزلیں شامل ہیں۔ جو کہ نیو کیمپس (بغداد ٹاؤن) ٹاؤن شپ میں زیر تعمیر ہے۔ آغوش کی یہ عمارت 20 کنال یا دو ایکڑ کے رقبے پر تعمیر ہو رہی ہے۔

2۔ آغوش کی زیر تعمیر عمارت کی تفصیلات حسب ذیل ہیں۔

  • بلڈنگ آرفن بچوں کے لیئے رہائشی ہونے کے ساتھ اسکول پر بھی مشتمل ہو گی۔
  • تعمیراتی رقبہ:

  1. بیسمنٹ 30051 مربع فٹ 250 آرفن چلڈرن کیلئے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ رہائشی کمرے، ڈائننگ، ٹی وی لاونچ، ہال
  2. گراؤنڈ فلور 30051 مربع فٹ آرفن چلڈرن کیلئے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سکول کے کمرے (ایڈمنسٹریشن بلاک)، پلے ایریا، بورڈ روم، کلاس رومز، کینٹن، باتھ رومز، واش رومز، وضو خانہ، اسٹور رومز، لفٹ
  3. فسٹ فلور 30051 مربع فٹ 150آرفن چلڈرن کیلئے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ رہائشی کمرے، کلاس رومز، ہال، لائبریری، باتھ رومز، پلے ایریا
  4. سیکنڈ فلور 30051 مربع فٹ 60آرفن چلڈرن کیلئے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ رہائشی کمرے، کلاس رومز، کمپیوٹرلیب، کیمسٹری لیب، اسٹاف روم، لفٹ، باتھ رومز
  5. تھرڈ فلور 30051 مربع فٹ 60آرفن چلڈرن کیلئے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ رہائشی کمرے، ٹی وی روم، کلاس روم، فزکس لیب، بیالوجی لیب، بورڈ رومز
  6. ممٹی فلور 3010 مربع فٹ

کل تعمیراتی رقبہ 153265 مربع فٹ

پراجیکٹ کی ٹنڈرنگ اور کنٹریکٹ

ایک لاکھ ترپن ہزار دو سو پنسٹھ (153265Sq.Ft) پر مشتمل پانچ منزلہ تعمیراتی رقبہ کے لیئے آغوش کی بلڈنگ کے لیئے ملک کے بڑے اخبارات میں تعمیراتی ٹھیکوں کے لیئے اشتہارات دیئے گئے تھے۔ جس میں ملک کے صف اول کی 12 تعمیراتی کمپنیوں نے اپنی خدمات پیش کی تھیں جس میں 10 کمپنیوں کی بولی (Bids) کو مزید جانچ پڑتال کے بعد لئے منتخب کیا گیا تھا۔ اس کے بعد سب سے کم بولی (Bid) دینے والی کمپنیوں کی مزید جانچ پڑتال کے بعد Short Listing کی گئی، جس میں تین بڑی کمپنیوں کو منتخب کیا گیا جنہوں نے کم سے کم بولی (Bid) دی تھی۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے 14 ممبران پر مشتمل ایک ’’تعمیراتی کمیٹی‘‘ تشکیل دی تھی کمیٹی کے ممبران فن تعمیرات اور انتظامی معاملات کا وسیع اور عظیم تجربہ رکھتے تھے۔ بالآخر کمیٹی نے سب سے کم بولی (Bid) دینے والی کمپنی میّسر خلیل کنسٹریکشن کمپنی کو یہ ٹھیکہ (Contract) دیا، لیکن کسی بھی سطح پر معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا۔

پراجیکٹ کی لاگت اور تعمیراتی وقت

فیز I بیسمنٹ اور گراؤنڈ فلور

  • سول ورکس کی لاگت
  • الیکٹریکل ورکس کی لاگت کل لاگت۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 16کروڑ روپے

تعمیراتی وقت کا تعین:

18 ماہ (18 دسمبر 2008ء تا 17 جون 2010ء)

فیز II سیکنڈ، تھرڈ اور ممٹی فلور

  • سول ورکس کی لاگت
  • الیکٹریکل ورکس کی لاگت
  • کل لاگت۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تقریباً 18 کروڑ روپے

تعمیراتی وقت کاتعین :

18 ماہ (5 دسمبر 2009ء تا 4 جون 2011ء)

پراجیکٹ کی کل لاگت فیز II ،I۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تقریباً 34 کروڑ روپے لاگت

آغوش کی زیر تعمیر عمارت کی خصوصیات

  • 500 یتیم اور بے سہارا بچوں کے لیئے عظیم الشان رہائش پر مشتمل عمارت میں جدید خطوط پر بنائے گئے بیت الخلاء (Toilets)، میس ہال (Mess Hall) کچن، کنٹین، دھوبی کی دوکان اور جدید آلات پر مشتمل سہولیات رکھی گئی ہیں۔ 3 کمرے سنگل بیڈ اور 2 کمرے ڈبل بیڈ اسٹاف کے لیئے مختص کیے گئے ہیں۔
  • اس عمارت میں بچوں پر مشتمل ایک اسکول بھی ہوگا۔ اسکول کی کلاسز کو جدید خطوط پر جدید آلات سے مزین کیا گیا ہے۔
  • لیبارٹریز، لیکچر تھیٹر، سیمینار ہال اور وسیع کمروں کے ساتھ وسیع و عریض انتظامی بلاک "Administration Block" بنایا گیا ہے۔
  • فائر الارم سسٹم (Fire Alarm System) بھی نصب کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ CCTV سیکیورٹی کیمرے بھی لگائے جا رہے ہیں اور باتھ رومز میں خصوصی گیسز کے اخراج کا نظام بھی دیا گیا ہے۔ کمپیوٹر کی وسیع نیٹ ورکنگ قائم کی جارہی ہے اور پوری عمارت مکمل طور پر ایئر کنڈیشنڈ بنائی جارہی ہے۔

مؤثر نگرانی (Monitoring) اور تعمیراتی معیار پر کنٹرول

پانچ تجربہ کار اور سینئر ٹیکنیکل اسٹاف پر مشتمل ایک ٹیم اپنے 45 سالہ تجربہ کار پروجیکٹ ڈائریکٹر کے ساتھ جو کہ سول انجینئر اور مائیننگ کے وسیع تجربے کے حامل ہیں، ہر روز پروجیکٹ کو مانیٹر کرتے رہتے ہیں اور تعمیراتی معیار اور استعمال ہونے والے مٹیریل کو ہر وقت چیک کرتے رہتے ہیں۔ انکی ترقیاتی چیکنگ کے ساتھ ساتھ کام کے معیار کی چیکنگ اور انسپیکشن گاہے بگاہے ہوتی رہتی ہے۔ یہ ٹیم روزانہ کی بنیاد پر پراگریس رپورٹ تیار کرتی ہے۔ سائیڈ کا وزٹ ٹیکنیکل ٹیم روزانہ کی بنیاد پر کرتی ہے۔ مٹیریل کی Testing معاہدے (Contract) میں دی گئی شرائط کے مطابق انجینئرنگ لیبارٹریز میں کرایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ سائیڈ پر مختص انجینئرز بھی ہونے والے کام کی جانچ پڑتال کرتے رہتے ہیں۔ تعمیرات کے اعلیٰ معیار کو ملحوظ خاطر رکھ کر کام کو مکمل اطمینان کے ساتھ آگے بڑھایا جارہا ہے۔

تعمیراتی کام کی پراگریس

  • فیز I کا کام 90 فیصد مکمل ہو چکا ہے معاہدے کے عین اور اس سال ماہ جون میں پہلے فیز میں مکمل ہونے والی عمارت کا چارج آغوش انتظامیہ کو منتقل کردیا جائیگا اور اسی سال نئے آرفن چلڈرن کے ایڈمیشن اوپن کردیئے جائیں گے۔
  • فیز II پر 25 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور معاہدے میں طے شدہ شیڈول کے مطابق کنٹریکٹر اپنی تعمیر مکمل کرنے کا پابند ہے اور ان شاء اللہ 4 جون 2011 تک آغوش عمارت کی تعمیر مکمل ہو جائیگی۔ اس وقت 50 بچے زیر کفالت ہیں بعد ازاں اس عمارت میں 500 مزید بے سہارا اور یتیم بچوں کو داخل کیا جائیگا۔

آغوش میں زیر کفالت بچے

آغوش میں ایسے یتیم اور بے سہارا، بچوں کو ہی لیا جاتا ہے جن کا معاشرے میں کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔

سہولیات

آغوش میں زیر کفالت تمام بچوں کو اعلیٰ درجے کی تقریباًوہ تمام سہولیات مہیا کی گئی ہیں جو اعلیٰ درجے کے گھرانوں کے بچوں کو دستیاب ہوتی ہیں۔

1۔ رہائش

بچوں کے لیے اعلیٰ ترین رہائش کا اہتمام کیا گیا ہے ہر بچے کے لیے انفرادی بیڈ، اسٹڈی ٹیبل، اسٹڈی چیئر، الماری و دیگر ضروریات زندگی کے سامان کا بندوبست کیا گیا ہے۔ ان کے رہائشی کمروں میں ایئر کنڈیشنزبھی نصب کیے گئے ہیں اور سردیوں کے لیے ہیٹرز لگائے گئے ہیں۔

2۔ خوراک

آغوش کے بچوں کے لیے ایسی خوراک کا اہتمام کیا جاتا ہے جوطبی اصولوں کے مطابق ہو ایک جسم کو اچھی خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔ روزانہ ایک اچھے کھانے کے ساتھ دودھ اور موسمی پھلوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بچوں کی پسند کے مطابق آئس کریم، بسکٹ اور جوس وغیرہ بھی بچوں کی غذا کا حصہ ہیں۔

3۔ علاج و طبی سہولیات

بچوں کی صحت کی بحالی اور علاج و معالجہ کے لیے فوری اقدامات انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ بچوں کو بیماری کی صورت میں علاج، انکی عیادت اور مزاج پرسی کا نظام بھی وضع کیا گیا ہے۔ ان بچوں کے لیے ایک الگ ڈاکٹر تعینات کیا گیا ہے جو ہفتہ وار اور ماہانہ ان کا میڈیکل چیک اپ کرتا ہے۔ بچوں کو انکی ضروریات اور ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق میڈیکل کی سہولت بہم پہنچائی جاتی ہے تاکہ بچے صحت مند وتوانار ہیں۔

4۔ لباس

اسکول یونیفارم، سردیوں و گرمیوں کے تناسب سے بچوں کے بہترین لباس کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ عیدین کے موقع پر ان کو خصوصی تحائف دیئے جاتے ہیں۔ بچوں کے کپڑوں کو صاف ستھرا رکھنے کیلئے لانڈری سسٹم تشکیل دیا گیا ہے۔ موسمی ضروریات کے مطابق اور مختلف مذہبی اور قومی تہواروں پر بھی بچوں کے لیے نئے ملبوسات تیار کروائے جاتے ہیں۔

5۔ اسکولنگ

بچوں کو جدید عصری علوم سیکھنے کے لیے انہیں منہاج ماڈل اسکول میں داخل کرایا جاتا ہے جہاں انہیں جدید نصاب کے مطابق انگلش، اردو، عربی، سائنس، ریاضی ودیگر ضروری علوم سے روشناس کرایا جاتا ہے۔

کمپیوٹر کی تعلیم

بچوں کے لیے کمپیوٹرز موجود ہیں پرائمری کی کلاسز سے ہی بچوں کوکمپیوٹر کی تعلیم دی جاتی ہے۔

تعلیم وتربیت

  • بچوں کی شخصیت میں نکھار پیدا کرنے اور ان کی تعلیمی، ذہنی، جسمانی اور نفسیاتی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے تعلیم وتربیت کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔ ہر بچے کو اس کی فطری صلاحیت اور قابلیت کے مطابق تعلیم دی جاتی ہے۔
  • بچوں کو مروجہ تعلیم کے حصول کے ساتھ کمپیوٹر ٹیکنالوجی اور ٹیکنیکل تعلیم سے روشناس کرایا جاتا ہے۔ بچوں کو عصری علوم کے ساتھ ساتھ شریعہ، دروس، قرآن وحدیث، حفظ و ناظرہ، اور قرآن کی مکمل تعلیم سے بہرہ مند کیا جاتا ہے۔
  • بچوں کو تعلیمی پروگراموں میں لیکچرز، نصابی و ہم نصابی سرگرمیوں کے علاوہ مختلف تعلیمی و تربیتی مہارتیں، جدید عصری اور جدید اسلامی تقاضوں کے مطابق سکھائی جاتی ہیں۔
  • آغوش میں داخل ہونے والے ہر بچے کی پرائمری سے اعلیٰ تعلیم کے حصول تک کی ذمہ داری آغوش کی ہے۔
  • بچوں کی روحانی بالیدگی و نشوؤنما کے لیے انہیں اسلامی اصولوں کے مطابق صوم وصلوٰۃ کا پابند بنایاجاتا ہے۔ اور نفلی نمازوں کی بھی ترغیب دی جاتی ہے روحانی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے بچوں کو تحریک منہاج القرآن کی مختلف دینی ورحانی تقریبات میں بطور خاص شریک کیا جاتا ہے تاکہ وہ اسلام کی اصل روح سے آشنا ہو سکیں اور اچھے مسلمان بن سکیں۔ تحریک کے سالانہ دس روزہ اجتماعی اعتکاف میں بھی بچے شریک ہوتے ہیں تاکہ تزکیہ نفس حاصل ہو سکے۔ انہیں میوزیم، واہگہ بارڈر اور پلانیٹوریم جیسے معلوماتی وتاریخی مقامات کی سیر بھی کرائی جاتی ہے۔

حفظ قرآن

پرائمری تعلیم کی تکمیل کے بعد بچوں کی قابلیت اور طبعی رحجان کو مد نظر رکھتے ہوئے انہیں حفظ قرآن کے لیے تحفیظ القرآن انسٹیٹیوٹ میں داخل کرایا جاتا ہے جہاں وہ دیگر بچوں کے ہمراہ حفظ قرآن کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔ پہلے بیج کے سات (7) طلباء نے حفظ قرآن کی تعلیم مکمل کر کے حافظ قرآن بننے کی سعادت حاصل کی ہے۔ آغوش انتظامیہ نے ان بچوں کے لیئے ایک بڑی تقریب منعقد کی جس میں ان بچوں کی دستار بندی کی گئی۔

ایکسڑا کوچنگ

آغوش انتظامیہ نے علیحدہ سے بچوں کے لیے ایکسٹرا کوچنگ کلاسز کا اہتمام کیا ہے اور اس کے لیے قابل ترین اساتذہ کو تعینات کیا ہے تاکہ بچوں کی صلاحیتوں کو جلا مل سکے اور بچے معاشرے میں زندگی کی مشکلات سے نبرد آزما ہونے کی انفرادی سطح پرصلاحیت حاصل کر سکیں۔

تفریحی سرگرمیاں

تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ بچوں کی ذہنی ارتقاء اور جسمانی نشوونما کے لیے تفریح انتہائی ضروری ہے۔ بچوں کی تفریح کو یقینی بنانے کے لیے آغوش سال بھر میں مختلف تفریحی پروگرام ومختلف سرگرمیاں اپنے شیڈول کے مطابق ترتیب دیتا ہے۔

  • ماہانہ بنیادوں پر بچوں کو اسکائی لینڈ، جوائے لینڈ دیگر باغات وتفریحی مقامات پر لے جایا جاتا ہے۔
  • تعلیمی وتفریحی اور قومی ورثے سے متعارف کرانے کے لیے بھی سیر کروائی جاتی ہے۔
  • سالانہ گرمیوں کی چھٹیوں میں مری، ایوبیہ و دیگر اہم مقامات کا دس روزہ ٹور رکھا جاتا ہے۔

ہم نصابی سرگرمیاں

صحت مند دماغ کے لیے ضروری ہے کہ جسم تندرست و توانا رہے۔ آغوش میں بچوں کی صحت وجسمانی ورزش اور کھیلوں کے لیے ایک PT ماسٹر تعینات کیا گیا ہے جو بچوں کو روزانہ عصر اور مغرب کے درمیان ورزش کراتا ہے۔ اس کے علاوہ بچوں کو اوقات کار کے مطابق ان ڈور اور آوٹ ڈور کھیلوں میں بھی مصروف رکھتا ہے جبکہ ہفتہ وار کھیلوں کے پروگرام بھی اس مقصد کے حصول کے لیے مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔ اہم نصابی سرگرمیوں میں بچوں کو بین الاسکولز مقابلہ جات نیزحسن قرات، نعت خوانی و ٹیبلوز کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ ان کا مقابلہ آپس میں گروپ سسٹم آف اسٹوڈنٹس کے تحت کرایا جاتا ہے۔

اعلیٰ تعلیم اور شادی

بچوں کو پرائمری تعلیم سے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے بعد انہیں ذریعہ معاش (روزگار) دلانے تک اور ان کی شادی کرانے تک کی ذمہ داری منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن نے اپنے ذمہ لی ہے۔ جب تک یہ بچے اس قابل نہیں ہوجاتے کہ معاشرے کے مفید شہری بننے کے ساتھ ساتھ اپنا ذریعہ معاش خود چلا سکیں اور رشتہ ازدواجیت میں منسلک ہونے کے بعد بیوی بچوں کے حقوق کی ادائیگی کر سکیں یعنی خود کفیل ہونے تک ایسے بچوں کی ذمہ داری آغوش کے پاس ہی رہے گی۔

دیگر نمایاں خصوصیات

آغوش کی چند نمایاں خصوصیات حسب ذیل ہیں:

پرسنل کمپیوٹرز

بچوں کی جدید تعلیم وتفریح کے لیے پرسنل کمپیوٹرز موجود ہیں۔

ڈائننگ روم اور ٹی وی لاونچ

کھانا کھلانے کے لیے اعلیٰ فرنشڈ ڈرائنگ و ڈائننگ روم ہے جس میں ڈیپ فریزر، ٹیلی ویژن اور دیگرسہولیات موجود ہیں۔

لائبریری کا قیام

ہمہ پہلو مطالعاتی شوق کی تسکین ونشوونما کے لیے بچوں کے لیے آراستہ لائبریری کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ جس میں بچے مقرر کردہ اوقات کار کے مطابق مطالعہ کتب کر کے اپنے علمی ذخیرہ کو بڑھاتے ہیں۔

کردار سازی

بچوں کی اعلیٰ کردار سازی اور اجتماعی تربیت کے لیے خصوصی توجہ دی جاتی ہے مثلاً ایثار، اخوت، ہمدردی، ایمانداری اورتقویٰ جیسی خصوصیات پیدا کرنے کے لیے خصوصی لائحہ عمل مرتب کیا گیا ہے۔ بچے انتظامیہ کے ساتھ عیدین کے موقع پر غریبوں، محتاجوں، مساکین کے اداروں میں جاکر اُنہیں عید گفٹس اور کھانے کی تقسیم بھی کرتے ہیں، تاکہ بچے احساس ذمہ داری کے ساتھ ساتھ اصلاح معاشرہ کے خدمت کے جذبہ سے بھی سرشار ہوسکیں۔

بچوں کی کفالت کا طریقہ کار

آغوش انتظامیہ نے آغوش کے ڈونرکے لیے طریقہ کار وضع کیا ہے اگر کوئی ڈونر آغوش کے بچوں کی کفالت کرنا چاہتا ہے تو وہ منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کو تحریری درخواست دیتا ہے اس کے بعد اس ڈونر کو انتظامیہ ایک بچے یا اس سے زائد کی مکمل معاشی کفالت کا ذمہ دیتی ہے۔ جس کے بعد آغوش کے شعبہ مالیات میں ڈونر بچے کے ماہانہ اخراجات جمع کرانے کا پابند ہو جاتا ہے۔ ڈونر بچے پر یہ تاثر نہیں ڈال سکتا کہ وہ اسے سپانسر کر رہا ہے۔ اس کے لیے انتظامیہ نے کچھ قواعد وضوابط وضع کیے ہیں تاکہ بچے کی شخصیت پر منفی اثر نہ پڑے۔ تاہم ڈونر کوکفیل بنائے جانے والے بچے کے مکمل کوائف وتعلیمی قابلیت سے آگاہ رکھنا آغوش انتظامیہ کی ذمہ داری ہوتی ہے، اس مقصد کے حصول کے لیے سال میں دو بار بچے کی تعلیمی کارکردگی ڈونر کو فراہم کی جاتی ہے ڈونر اپنے کفالت کرنے والے بچے کو الگ سے نہ ایمپریسٹ منی بھجوا سکتا ہے اور نہ کوئی تحفہ دے سکتا ہے۔ اگر ایمپریسٹ منی یا کوئی تحفہ بھجوانا چاہتا ہے تو وہ تمام بچوں کے لیے مساوات کے مطابق تحفہ منتخب کرتا ہے۔ کیونکہ کسی ایک بچے کو علیحدہ سے مراعات دینے پر دوسرے بچوں کی نفسیات پر منفی اثرات جنم لیتے ہیں جو ان کی شخصیت کے لیے بہتر نہیں ہوتے۔ اس لیے ڈونر کو ادارہ ’’آغوش‘‘ کے قواعد وضوابط کی پابندی کرنا ہوتی ہے۔ آغوش وہ مثالی کفالتی ادارہ ہے جو یتیم اور معاشرے کے بے سہارا، نادار بچوں کو تحفظ، رہائش، خوراک، تعلیم وتربیت، معاش، لباس اور صحت وعلاج کی سہولت فراہم کرتا ہے۔

اپیل عطیات برائے آغوش

منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن (MWF) آپ کو زندگی کا یہ نادر موقع فراہم کرتی ہے کہ فلاحی اور صدقہ و خیرات کے کاموں میں بھرپور حصہ لے کر دنیا بھر کے لاکھوں دکھی انسانوں کی مدد کریں۔ ہمارا کام سب کے سامنے ہے اور بہت سے لوگوں کی ضروریات پورا کرنے کے لیے روز بروز وسیع تر ہوتا جا رہا ہے۔ منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن دنیا بھر کے مفلوک الحال اور اَفلاس زدہ لوگوں کی مدد کرنے میں پیش پیش ہے۔ اﷲ تعالیٰ کے فضل و کرم اور چھوٹے اور بڑے عطیہ دہندگان کی مدد سے ہم اس قابل ہوچکے ہیں کہ بشمول آغوش اپنے کام کو مزید وسعت دے سکیں۔ اِنسانیت کا درد رکھنے والے حضرات آغوش کی پانچ منزلہ عمارت کی تعمیر کے لیے تعاون کر رہے ہیں۔ مخیر حضرات نے محض اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضا کی خاطر فیاضانہ مدد کی ہے۔ جیسا کہ قرآن حکیم اور تعلیماتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں زور دیا گیا ہے کہ خیر اور فلاح کے کام ایک مسلمان کی زندگی میں ہمیشہ پہلی ترجیح پر رہتے ہیں۔

اس وسیع پروجیکٹ کو جلد اَز جلد پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے وسیع پیمانے پر فنڈز اور مالی معاونت کی ضرورت ہے۔ لہٰذا منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن منتظر ہے کہ زیادہ سے زیادہ مخیر حضرات اِس کارِ خیر میں حصہ لیں۔ اِس نیک تعمیری کام میں حصہ لینے کے لیے آپ ایک بلاک یا کسی ایک یونٹ کی تعمیر کی ذمہ داری لے کر اپنے والدین، اہل و عیال اور رفقاء و اَحباب کو بھی ایصالِ ثواب میں شریک کرسکتے ہیں۔

یہ تمام پراجیکٹ 34 بلاکوں اور 1700 یونٹوں پر مشتمل ہے۔ ایک بلاک 50 یونٹوں پر مشتمل ہے۔ فی یونٹ پر 2000 یورو یا 2 لاکھ روپے پاکستانی لاگت کا تخمینہ ہے۔ جزوی تعمیری یونٹ کی سرپرستی کرنے والے تمام حضرات کے نام ایصال ثواب کے مقصد کے لیے بلاک کی پیشانی پر مشتہر کیے جائیں گے۔

اسلام میں یتیموں کی مدد اور سرپرستی کرنے کی بڑی اَہمیت بیان ہوئی ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ اَقدس ہے:

’’میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا روزِ قیامت ساتھ ساتھ ہوں گے (اور یہ فرماتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگشتانِ مبارک کو ملا کر اِس قربت کا اِظہار فرمایا)۔ ‘‘ (صحیح بخاری)

لہٰذا آئیے! اِس پراجیکٹ میں دل کھول کر حصہ لیجیے اور تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قربت بروز حشر حاصل کر کے اپنی نجات کا سامان کیجیے۔

آئیے ! یتیم و بے سہارا بچوں کی تعلیم و تربیت اور کفالت کیلئے آپ اپنے عطیات، صدقات اور زکوٰۃ نقد رقوم ہمارے دفتر جمع کرارکررسید حاصل کرسکتے ہیں یا سنٹرل زکوٰۃ اکاؤنٹ نمبر 01970012696903 حبیب بینک لمیٹڈ منہاج القرآن برانچ لاہورمیں بذریعہ آن لائن چیک اور ڈرافٹ جمع کراسکتے ہیں۔

بمقام

آغوش کا یہ ادارہ پاکستان کے شہر لاہور،
ٹاؤن شپ شاہ جیلانی روڈ پر جامعہ المنہاج دربار غوثیہ کے قریب واقع ہے۔

پتہ

 "آغوش" (بغداد ٹاؤن) ٹاؤن شپ،
شاہ جیلانی روڈ نزد دربار غوثیہ،
جامعۃ المنہاج ٹاؤن شپ لاہور
فون نمبر۔ 0092.42.35151542

رابطہ نمبرز

’’آغوش‘‘ ٹیلی فون نمبر 0092.42.35151542
ہیڈ آفس 0092.42.35168365
فیکس نمبر 0092.42.35168184
ای میل info@welfare.org.pk
ویب سائٹ www.welfare.org.pk


Download Form