منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے تحت تحصیلی ناظمین ویلفیئر کی 2 روزہ ورکشاپ

منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے زیراہتمام مرکزی سیکرٹریٹ لاہور میں تحصیلی ناظمین کے لیے 2 رروزہ ورکشاپ 25 دسمبر 2010ء کو منعقد ہوئی۔ ورکشاپ کا باقاعدہ آغاز دوپہر تین بجے ہوا اور 26 دسمبر 2010ء کو شام 5:00 بجے تک جاری رہی۔

ورکشاپ کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن پاک اور نعت مبارکہ سے ہوا۔ اس کے بعد لیکچرز کا سلسلہ شروع ہوا۔ ورکشاپ کے پہلے سیشن سے منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر افتخارشاہ بخاری، ڈائریکٹر امور خارجہ راجہ جمیل اجمل، نظامت تربیت کے ڈپٹی ڈائریکٹر علامہ غلام مرتضیٰ علوی اور پروفیسر سجاد العزیز نے شرکاء کو لیکچر دئیے۔

افتخار شاہ بخاری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اسلام سلامتی کا دین ہے اور اسکا عطا کردہ تصور فلاح و بہبود صرف نظریہ و عقیدہ تک محدود نہیں بلکہ عملاً ایک نظام کی حیثیت رکھتا ہے ایک مثالی اسلامی مملکت میں افراد معاشرہ کی سلامتی و فلاح کو یقینی بنانے کیلئے اسلام امداد باہمی اور کفالت عامہ کا تصور دیتا ہے۔ منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن ایک بین الاقوامی فلاحی و رفاعی تنظیم ہے جو معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کی فلاح و بہبود کیلئے ہر شعبہ زندگی میں مدد و تعاون فراہم کرنے کیلئے پاکستان سمیت دنیا بھر میں کوشاں ہے۔ منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن جہالت، بیماری، غربت، بے روزگاری، محرومی کے خاتمے، قدرتی آفات اور بحرانواں کے متاثرین کی بحالی کیلئے عملی جدوجہد میں مصروف ہے۔ یہ ورکشاپ اس سلسلے کی ایک کڑی ہے، تاکہ کارکنان کو فلاحی سرگرمیوں کے لیے تیار کیا جا سکے۔

ورکشاپ میں نظامت تربیت کے ڈپٹی ڈائریکٹر علامہ غلام مرتضیٰ علوی نے ’’اسلام میں فلاح انسانیت‘‘ کے موضوع پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے کہ۔ "لوگوں میں بہترین وہ شخص ہے جو ان میں سے (عام ) لوگوں کے لیئے زیادہ نفع بخش ہے"۔ انہوں نے کہا کہ اسلام نے امداد باہمی کا تصور دیکر افراد میں تعاون، اخوت، عزت و احترام اور خوشحال زندگی گزارنے کا طریقہ بتا دیا ہے۔ فلاح انسانیت ایک عظیم خدمت اور اجر بھی ہے۔ جو ساری زندگی روزہ رکھنے اور رات بھر کے قیام سے بھی حاصل نہیں ہو سکتا۔ یہ اسلام کا وہ تصور انفاق و ویلفیئر ہے جس کی مثال دنیا میں کہیں اور نہیں ملتی۔

پروفیسر سجاد العزیز نے بین الاقوامی حالات کے تناظر میں منہاج ویلفیئر فاونڈیشن کے فلاحی کاموں کے حوالے سے شرکاء کو آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ منہاج ویلفیئر فاونڈیشن دنیا بھر میں انسانیت کی خدمت کے جذبے کو عام کر رہی ہے جبکہ دوسری جانب اسلام کے تصور انفاق فی سبیل اللہ اور اسلامک ویلفیئر اسٹیٹ کے تصور کو کچلنے کیلئے ایک بین الاقوامی سازش کے تحت اسلام کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اسلام نے انسانیت کی فلاح کیلئے جو تصور و قانون دیا ہے ان حالات میں اس کو پھیلانے اور اس پر عمل کرنے کی اشد ترین ضرورت ہے۔

منہاج القرآن انٹرنیشنل کے ڈائریکٹر امور خارجہ راجہ جمیل اجمل نے کہا کہ منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن نے دنیا کے 90 ممالک میں اس تصور انفاق اور ویلفیئر کو اس انداز سے پھیلایا ہے جس سے گذشتہ 10 برسوں سے دنیا میں اسلام کے چہرے پر پڑی دہشت گردی سے جو گرد پڑگئی تھی وہ اب چھٹ رہی ہے اور غیر مسلم دوبارہ اسلام کے اس تصور انفاق کی وجہ سے اسلام کے نزدیک آرہے ہیں۔

تربیتی ورکشاپ کے دوسرے سیشن کا آغاز 26 دسمبر کو صبح 9:00 بجے ہوا۔ جس سے منہاج القرآن ویلفیئر سوسائٹی کے سابق صدر اور ایڈوکیٹ سپریم کورٹ انوار اختر ایڈوکیٹ نے ویلفیئر پراجیکٹس میں تنظیمی استحکام کی اہمیت پر لیکچر دیا۔ انہوں نے کہا کہ رفاعی و فلاحی پراجیکٹس کسی بھی تحریک اور تنظیم کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔ یہ پراجیکٹس دکھی انسانیت کو استفادہ فراہم کرتے ہیں اور عامۃ الناس بھی اس سے فائدہ حاصل کرتے ہیں۔ منہاج القرآن ویلفیئر فاونڈیشن بھی فلاح کے تصور کو عملی طور پر عام کرنے میں دن رات کوشاں ہے۔

منہاج انٹرنیٹ بیورو کے ڈپٹی ڈائریکٹر عبدالستار منہاجین نے دور حاضر میں انٹرنیٹ میڈیا کے موضوع پر لیکچر دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ میڈیا وار کا دور ہے، جہاں عریانیت اور فحاشی کو جس منظم انداز سے مسلم معاشروں میں پھیلایا جا رہا ہے۔ ایسے حالات میں آج ضرورت اس امر کی ہے کہ میڈیا کا استعمال اسی منظم انداز سے مثبت سر گرمیوں کو پھیلانے کیلئے بھی کیا جائے۔ یہ اعزاز تحریک منہاج القرآن اور منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کو جاتا ہے کہ ایک لاکھ سے زائد افراد روزانہ منہاج القرآن کی مرکزی ویب سائٹ کا وزٹ کرتے ہیں۔ آج دنیا میں کوئی بھی ایسا حصہ نہیں، جہاں تحریک اور ویلفیئر کو انٹرنیٹ کے ذریعے اسٹڈی نہ کیا جاتا ہو۔ لہٰذا مقامی سطح پر صحت و دیگر فلاح عام کی تمام سر گر میوں کو انٹرنیٹ میڈیا پر لانے کی اشد ضرورت ہے۔

منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور ادارہ آغوش کے کوآرڈنیٹر صفدر عباس نے کہا کہ اسلام یتیموں، مسکینوں، بیواؤں، بے سہارا اور غریب طبقے کو سہارا دینے، انکی مکمل کفالت کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اس کے ساتھ معاشرے کے بے کس، محروم نادار طبقے اور سوسائٹی کے محتاج اور بے سہارا یتیم اور معصوم بچوں کی مکمل کفالت کرنے کا حکم بھی دیتا ہے۔ معاشرے کے اس طبقے کو محروم رکھنے والوں کیلئے اسلام نے سخت وعید سنائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن نے معاشرے کے ایسے محروم، محتاج، بے کس و بس یتیموں کو سہارا دینے اور انکی مکمل کفالت کا اہتمام کیا ہے۔ مرکز ی سطح پر یتیم و بے سہارا بچوں کا ادارہ آغوش 500 بچوں کی مکمل کفالت کا ادارہ ہے جبکہ کراچی، ملتان سمیت ملک بھر میں اسکی شاخیں قائم کی جارہی ہیں۔

انہوں نے تحصیلی ناظمین کو بتایا کہ وسائل رکھنے والے احباب و طبقات کو یتیم بچوں کی مکمل کفالت کیلئے اپنے ساتھ ملائیں۔ ادارہ آغوش میں تعلیم و کفالت پانے والے تمام بچے نہ صرف تعلیم کے میدان میں پہلی پوزیشن حاصل کر رہے ہیں بلکہ کھیل اور غیر ہم نصابی اور ہم نصابی سرگرمیوں میں بھی سر فہرست رہتے ہیں۔ آغوش میں کفالت پانے والے بچوں کو اپنے ماں باپ کی کمی کا احساس تک نہیں ہوتا یہی طرز عمل ہمیں اپناتے ہوئے ملک بھر میں معیاری ادارہ آغوش کی شاخیں قائم کرنی ہیں۔

اختتامی سیشن میں منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر افتخار شاہ بخاری نے ناظمین ویلفیئر کی ذمہ داریوں، نظام العمل، تنظیمی ڈھانچے اور زیر تعمیر پراجیکٹس پر خصوصی لیکچر دیا۔ جس میں انہوں نے کہا کہ کسی بھی تنظیم میں کام کو منظم اور تیز رفتاری سے کرنے کیلئے ذمہ داران کا نظام اور طریقہ کار سے واقف ہونا ضروری ہے۔ جب کام میں نظم پیدا ہو جائے تو کام کی رفتا ر بھی بڑھ جاتی ہے۔ انہوں نے کہا اصل دین سماجی، رفاعی بہبود کے کاموں میں ہے۔ معاشرے میں سیاسی و مذہبی جماعتوں، تنظیموں کی طرف سے بھر پور مخالفت و مزاحمت ہوتی ہے جبکہ سماجی و رفاہی بہبود کے کاموں میں کوئی بھی مخالفت نہیں کریگا۔

افتخار شاہ بخاری نے کہا کہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقاری نے جو فلسفہ سماجی فلاح و بہبود دیا ہے۔ منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کوئی روایتی تنظیم نہیں بلکہ سماجی بہبود کے کاموں کے ذریعے ایسی افرادی قوت کو تیار کیاجائے جو ملک سے ظلم، زیادتی جہالت کا خاتمہ کر کے ملک کو اسلاملک ویلفیئر اسٹیٹ بنا دے۔

تربیتی ورکشاپ کے تیسرے سیشن سے شیخ الا سلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے صاحبزادے حسین محی الدین القادری نے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام نے امدادباہمی کا تصور دیکر افراد میں تعاون، اخوت، عزت و احترام اور خوشحال زندگی گزارنے کا طریقہ بتایا ہے۔ خلق خدا ایک دوسرے سے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں جڑی ہوئی ہے۔ امداد باہمی اور تعاون کے بغیر معاشی و معاشرتی استحکام کے مفقود ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ لہذا اسلام نے کفالت عامہ کے ذریعے ہر فرد کی بنیادی ضروریات کی تکمیل کا اہتمام کیا۔

انہوں نے کہا کہ جب سوسائٹی پر سے اللہ تعالیٰ کی رحمت اٹھتی نظر آئے، برکت اٹھ جائے اور معاشرے پر اللہ کے عذاب زیادہ ہوجائیں، پانی کی قلت ہو جائے، مہنگائی بڑھ جائے، وسائل کم ہو جائیں۔ طوفانوں کا زور ہو جائے، قتل و غارت گری عام ہو جائے، دہشت گرد مضبوط ہوجائیں تو سمجھ لیں کہ اس معاشرے نے مجبوریوں، کمزوریوں، یتیموں ، مسکینوں، غریبوں کا حق ادا کرنا چھوڑ دیا ہے۔ مجبوروں، کمزوروں کی دعائیں جو سوسائٹی کو اللہ تعالیٰ کے عذابوں سے محفوظ رکھتی ہیں جب ان کے سروں سے سو سائٹی اپنا ہاتھ اٹھا لیتی ہے تو اللہ رب العزت سو سائٹی کے سر سے اپنی رحمت کا ہاتھ اٹھا لیتا ہے۔ منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کو اسی تصور و نظریہ کے تحت قائم کیا گیا ہے۔

انہوں نے تحصیلی ناظمین پر زور دیا کہ وہ متا ثرہ بد حالی میں مبتلا طبقے کے افراد میں تعاون، اخوت، عزت و احترام اور انہیں خوشحال زندگی گزارنے کیلئے بھر پور اعانت فراہم کریں اور معاشرے کے خوشحال طبقے کو اپنے ساتھ ملاکر غربت کے خاتمے کیلئے اقدامات کریں۔

ورکشاپ سے منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر میاں طاہر یعقوب اور نائب ناظم احمد معین نے بھی خطاب کیا۔ پروگرام میں نظامت کے فرائض نائب ناظم حافظ خرم شہزاد نے سرانجا م دئیے۔ دو روزہ تربیتی ورکشاپ میں شریک ہونے والے مندوبین کے درمیان راجہ زاہد محمود، راجہ جمیل اجمل، میاں افتخاراحمد، افتخار شاہ بخاری اور صفدرعباس نے اسناد تقسیم کیں۔ پروگرام کا باقاعدہ اختتام دعا سے ہوا۔