سیلاب زدگان کے ساتھ عید – کارکن کی ڈائری

عبدالجبار (منہاج سی ڈیز)

میری طرح میری والدہ کو بھی امسال اعتکاف کی منسوخی کا نہایت افسوس تھا، چنانچہ جب میں نے ان سے سیلاب زدگان کی خدمت کے لئے امدادی قافلے کے ساتھ اجازت مانگی تو انہوں نے بلاتردد اجازت دے دی۔ مارے خوشی کے ساری رات نیند نہیں آئی، اگلی صبح والدہ نے بخوشی روتے ہوئے ماتھا چوم کر رخصت کیا۔
ویسے تو اس سے پہلے بھی تحریک منہاج القرآن فیصل آباد کی طرف سے متعدد قافلوں کے ذریعے ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد مالیت کا امدادی سامان مظفرگڑھ، روجھان، کوٹ سلطان، لیہ، کروڑ لعل عیسن اور راجن پور سمیت متعدد سیلاب زدہ علاقوں کی طرف بھجوایا جا چکا تھا، مگر اس بار کی خصوصیت یہ تھی کہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی خصوصی ہدایات پر عمل پیرا ہوتے ہوئے عیدالفطر کے موقع پر متاثرین سیلاب کے غم بانٹنے کے لئے یہ امدادی سامان عید گفٹ کے طور پر بھیجا جا رہا تھا۔

یہ قافلہ فیصل آباد سے امدادی سامان لے کر جنوبی پنجاب کے شہر راجن پور جا رہا تھا، جس کی سربراہی منہاج القرآن یوتھ لیگ فیصل آباد کے صدر میاں محمد کاشف کے ذمہ تھی۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں سیکیورٹی کے مخدوش حالات کی وجہ سے معقول افرادی قوت کے ساتھ 20 رکنی وفد کے ہمراہ 4 ٹرکوں کا قافلہ عید سے ایک دن پہلے راجن پور کی طرف عازم سفر ہوا۔ اس 20 رکنی وفد میں خلیل احمد گجر، منظور حسین سندھو، شیخ سہیل سکندر، معروف نعت خواں اویس رضا کموکا، عبدالجبار، عبدالباسط، محمد شاہد جٹ، محمد نوید سلیم، وسیم کموکا، حسین رضا، مدثر فاروق، عمران مبارک، شبیر ڈوگر، علی رضا، محمد رضوان، شیخ وقاص، محمد سلیم و دیگر شامل تھے۔

چار ٹرکوں پر لدا کم و بیش 30 لاکھ روپے کی مالیت کا امدادی سامان برطانیہ کےپیر پندر ایمان ٹرسٹ کی طرف سے پاکستان کے حالیہ سیلاب کے متاثرین تک پہنچانے کے لئے منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن فیصل آباد کو فراہم کیا گیا تھا۔ منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے ذریعے سامان کی تقسیم کا سبب یہ بنا کہ انہوں نے اس سے پہلے بھی اسی قدر امدادی سامان کسی سرکاری تنظیم کے ذریعہ بھجوایا تھا، مگر وہ سامان متاثرین تک پہنچنے کی بجائے مقامی منڈیوں میں اونے پونے فروخت کر دیا گیا۔ اسی عدم اطمینان کی وجہ سے انہوں نے اس بار کسی سرکاری تنظیم کی بجائے منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے ذریعے امداد بھجوانے کا فیصلہ کیا۔ آئندہ کے حوالے سے انہوں نے یہ آفر کی ہے کہ وہ منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کو تین ماہ کے لئے 3 موبائل ہسپتال دیں گے، جن میں تمام میڈیسن انگلینڈ سے آئیں گی اور سپیشلسٹ ڈاکٹرز کی فراہمی کا انتظام بھی ان کے ذمہ ہوگا۔

9 ستمبر بروز جمعرات

سفر سے ایک دن پہلے مؤرخہ 9 ستمبر کی شام ہم نے سامان کی پیکنگ شروع کی۔ ہمیں 1700 خاندانوں کے لئے ہر قسم کا امدادی سامان پیک کرنا تھا۔ تمام اشیائے ضرورت کو لفافوں میں پیک کرنے کے بعد بڑے تھیلوں میں ڈالا۔ امدادی سامان میں ہر خاندان کے لئے 10 کلو آٹا، 2 کلو چینی، ایک کلو چاول، 2 کلو گھی، 2 کلو دالیں، سویاں، نمک، مرچ، مصالحہ، ماچس، دودھ کے ڈبے، صابن، پینے کا پانی وغیرہ شامل تھے۔ 9 ستمبر کو شروع ہونے والی پیکنگ اگلے روز جمعہ کی نماز تک جاری رہی۔

10 ستمبر بروز جمعۃ الوداع

امادی سامان کی پیکنگ مکمل کرنے کے بعد ہم نے جمعۃ الوداع کی نماز ادا کی اور شام 4 بجے پریس کلب کے باہر سے روانہ ہوئے۔ ایکسپریس نیوز نے امدادی قافلے کی روانگی کی کوریج کی۔ ساڑھے پانچ بجے ہم فیصل آباد سے راجن پور کے لئے عازم سفر ہوئے۔ رمضان المبارک کی آخری افطاری ہم نے جھنگ روڈ پر واقع قصبے ‘سدھار’ میں کی، اٹھارہ ہزاری کے مقام پر عشائیہ کیا اور اگلی ساری رات ہم نے سفر میں گزاری۔

11 ستمبر بروز ہفتہ (عیدالفطر)

صبح ہم نے مظفر گڑھ کے بائی پاس پر چائے پی اور ڈیرہ غازی خان پہنچ کر نماز عید الفطر ادا کی۔ نماز عید الفطر کی ادائیگی کے بعد وہاں سے انڈس ہائی وے پر راجن پور کی طرف سفر کا اگلا مرحلہ شروع کیا اور فاضل پور، جام پور وغیرہ سے ہوتے ہوئے دوپہر ساڑھے بارہ بجے کے لگ بھگ راجن پور پہنچے۔

راجن پور سے تقریباً 50 کلومیٹر پیچھے جام پور سے ذرا آگے واقع پہلی چیک پوسٹ پر پولیس والوں نے سیکیورٹی کی مخدوش صورتحال کی وجہ سے ہمیں مزید آگے جانے سے منع کر دیا۔ بعدازاں امدادی سامان کا حیا کرتے ہوئے راجن پور تک سیکیورٹی فراہم کی۔ ہر چند کلومیٹر کے فاصلے کے بعد اگلے علاقے کی پولیس ہمارے قافلے کی سیکیورٹی کے لئے ساتھ شامل ہو جاتی اور پچھلے علاقے کی پولیس وین واپس مڑ جاتی۔ اسی دوران منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن لاہور کی ایک گاڑی ہمارے قافلے کے ساتھ شامل ہوئی، جو منہاج خیمہ بستی کوٹلہ نصیر کی طرف امدادی سامان لے کر جا رہی تھی۔

دوپہر 12 بجے راجن پور پہنچے، جہاں ہمارا استقبال وہاں کے ڈسٹرکٹ کوارڈینیٹر سردار شاکر مزاری اور ان کی ٹیم نے کیا۔ اچھی مہمان نوازی کی، ظہرانہ دیا اور مقامی ہوٹل میں رہائش کا انتظام کیا۔

امدادی سامان متاثرہ علاقوں تک لے جانے کے لئے منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے مقامی ورکرز کی تازہ دم ٹیمیں پہلے سے تیار تھیں۔ سب سے پہلے 555 تھیلوں پر مشتمل ایک ٹرک روجھان کی طرف بھجوا دیا گیا، جو سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ تھا۔ اس کے بعد کوٹلہ نصیر میں آباد منہاج خیمہ بستی کے لئے ضروری سامان الگ کرنے کے بعد باقی سامان راجن پور کے دیگر متاثرہ علاقوں جام پور، فاضل پور، محمد والا، کرم داد قریشی اور کوٹ مٹھن شریف وغیرہ کی طرف بھجوا دیا گیا۔

12 ستمبر بروز اتوار

ناشتہ کے بعد ساری ٹیم نے منہاج خیمہ بستی واقع کوٹلہ نصیر (راجن پور) کا وزٹ کیا۔ یہ علاقہ بھر کی ایک مثالی خیمہ بستی تھی، جہاں بجلی بھی فراہم کی گئی تھی۔

اس روز اس خیمہ بستی میں لاہور مرکز سے بھی ایک ٹیم آئی ہوئی تھی۔ وہیں اس وفد کے ساتھ تشریف لانے والے فارن افیئرز کے ڈائریکٹر راجہ جمیل صاحب سے ملاقات ہوئی، جو 20 سال سعودی عرب میں گزارنے کے بعد حال ہی میں پاکستان تشریف لائے ہیں۔ سیلاب زدگان کو اس بات نے بہت خوشگوار حیرت میں گم کر دیا کہ راجہ صاحب ایک طویل عرصے کے بعد پہلی عید پاکستان میں کر رہے ہیں وہ بھی اپنے بچوں کی بجائے سیلاب زدگان کے ساتھ۔

خیمہ بستی کا انتظام دیکھ کر دل بہت خوش ہوا۔ ہر خیمے میں ایک پیڈسٹل فین اور ایک انرجی سیور لگاہوا ہے۔ متاثرین کو تین وقت کا کھانا تحریکی رضاکاران خود پکا کر ان کے خیموں میں جا کر تقسیم کرتے ہیں۔ روٹیاں لگانے کے لئے خیمہ بستی کے اندر ایک تنور نصب ہے۔ بچوں والے خاندانوں کو روزانہ گرم دودھ بھی فراہم کیا جاتا ہے۔ بنیادی طبی امداد اور ضروری ادویات کی مفت فراہمی کے لئے خیمہ بستی میں ڈسپنسری بھی قائم کی گئی ہے۔ مردوں اور خواتین کے لئے الگ الگ واش رومز کا انتظام موجود ہے اور نماز کی ادائیگی کے لئے ایک چھوٹی سی مسجد بھی بنائی گئی ہے۔ متاثرین میں سے ہی بعض ایف اے اور بی اے کی طالبات کو چھوٹے بچوں کی تعلیم کی ذمہ داری دی گئی ہے، تاکہ بچوں کی تعلیم کا سلسلہ جاری رہ سکے۔ بچوں کے لئے سکول کی کتب کے علاوہ ابتدائی دینی تعلیم کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔

عید کے روز خیمہ بستی میں مختلف سرگرمیاں جاری رہیں۔ بچوں سے تلاوت، نعت سنی گئی اور کویئز مقابلہ بھی کروایا گیا۔ تلاوت، نعت سنانے والوں اور سوالوں کے درست جوابات دینے والے تمام بچوں کو نقد انعامات دیئے گئے۔ بعدازاں ان میں دوڑ کا مقابلہ کروایا گیا، اور اول آنے والے بچے کو انعام دیا گیا۔ اسی طرح چاند رات کو چھوٹی بچیوں کے درمیان مہندی لگانے کا مقابلہ بھی ہوا۔

خیمہ بستی کے قریب متعین لیہ سے تعلق رکھنے والے ایک پولیس والے نے بتایا کہ وہ اس سے پہلے بھی کئی متاثرہ علاقوں میں ڈیوٹی کر چکا ہے۔ باقی جگہوں پر صرف خیمے لگائے گئے ہیں اور لوگوں کو دو وقت کی روٹی کے لئے بھکاری بننا پڑتا ہے۔ جبکہ یہاں لوگوں کو نہ صرف عام دنوں میں تین وقت پکا پکایا کھانا خیموں میں پہنچایا جاتا ہے بلکہ عید کے دن کیش عیدی کے علاوہ نئے کپڑے، گورمے کی مٹھائی، سٹائلو کے جوتے، بچوں کے لئے کھلونے اور مہندی بھی تقسما کی گئی۔ وہ اس طرح کہ سارا سامان بڑی میزوں پر پھیلا دیا گیا اور باری باری تمام خیموں کے اہل خانہ کو بلایا گیا کہ وہ اپنی حصہ آتی چیزیں مرضی کے رنگوں اور ڈیزائنوں میں چن لیں۔ جب تمام خیموں والے سامان لے چکے تو باقی بچ رہنے والا سامان خیمہ بستی کے گردونواح سے اکٹھے ہونے والے متاثرین کو تقسیم کر دیا گیا۔

پولیس والے نے مزید بتایا کہ حکومت کی طرف سے اعلان کیا گیا تھا کہ عید کے دن دوپہر کا کھانا نہ پکایا جائے، اس روز تمام متاثرین کو سرکاری سطح پر بریانی فراہم کی جائے گی۔ چنانچہ عید کے دن لوگ انتظار میں بھوکے رہے اور طویل انتظار سے تنگ آ کر رضاکاران نے ساڑھے تین بجے خود کھانا پکا کر تقسیم کیا۔

متاثرین میں سے ایک بزرگ کے تاثرات نے ہر آنکھ کو اشکبار کر دیا۔ اس نے جس انداز سے منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کی خدمت کو سراہا اورشیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری اور ان کی طرف سے متاثرین سیلاب کی خدمت پر مامور رضاکاران کو جھولیاں اٹھا اٹھا کر دعائیں دیں، انہیں سن کر کوئی آنکھ نم دیدہ ہوئے بغیر نہ رہی۔
امیر لاہور محمد ارشاد طاہر نے کہا کہ ہر کام کی کوئی نہ کوئی اجرت ہوتی ہےاور ہم بھی یہ خدمت مفت میں نہیں کر رہے آپ سے اس کی اجرت لینی ہے۔ ایک لمحے کے لئے تو لوگ ہکا بکا رہ گئے۔ جب سب لوگ ان کی طرف خوب متوجہ ہو گئے تو انہوں نے واضح کیا کہ ہم جو آپ کی خدمت کر رہے ہیں اس کی اجرت یہ ہے کہ آپ سب خیموں میں بیٹھ کر سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درودشریف پڑھیں۔

جتنی دیر کے لئے ہم وہاں موجود رہے، ہمیں کوئی روتی ہوئی آنکھ دکھائی نہیں دی، کوئی بھوکا بچہ نظر نہیں آیا، کوئی پریشان حال ماں دکھائی نہیں دی، کوئی سوچوں میں گم باپ نظر نہیں آیا۔ بلکہ وہ سب لوگ اپنے حال میں خوش تھے، انہیں یقین تھا کہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے بھیجے ہوئے یہ لوگ جو ہمیں اپنی لُٹی ہوئی دنیا پر افسوس تک نہیں کرنے دے رہے، جو ہمیں خوش رکھنے کے لئے ہر آنے والے وقت میں کچھ نیا تیار رکھتے ہیں، یہ ہمارے گھر دوبارہ بس جانے تک کسی حال میں بھی ہمیں بے یارو مددگار چھوڑ نہیں چھوڑیں گے۔ ان لوگوں کی آنکھوں سے چھلکتا اطمینان صاف بتا رہا تھا کہ وہ لوگ اپنے حال کی طرح اپنے مستقبل سے بھی مطمئن ہیں۔

اسی دوران میں نے ذاتی کاوش سے حاصل کردہ رقم سے تمام بچوں کو عیدی تقسیم کی۔ فیصل آباد سے آنے والے دیگر رضاکاران نے بھی ذاتی جیب سے خرچہ کر کے بچوں کو ٹافیاں اور بسکٹ وغیرہ تقسیم کئے۔

خیمہ بستی کی انتظامیہ سے الوداعی ملاقات کے بعد راجن پور سے روانہ ہوئے۔ راجن پور سے کوٹ مٹھن شریف کے راستے میں قادر آباد نہر کے موڑ پر ایک چھوٹی خیمہ بستی نظر آئی، جس میں منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کی طرف سے فراہم کردہ 9 خیمے نصب تھے۔ ہم ان سے حال احوال دریافت کرنے کو رکے تو متاثرین نے گلہ کیا کہ منتظمین نے ہمیں خیمے لگا کر چھوڑ دیا ہے۔ تحقیق کرنے پر ہمیں معلوم ہوا کہ ان لوگوں کے پاس نہ صرف گندم کا وافر ذخیرہ موجود تھا بلکہ کافی امدادی سامان کے علاوہ مویشی بھی موجود تھے۔ وہ صرف ناشکری کر رہے تھے تاکہ انہیں کسی طرح مزید امداد مل سکے۔ ہم نے اس صورتحال کے پیش نظر راجن پور میں موجود منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کی ٹیم کو فون کر کے اطلاع دی کہ انہیں بھی مرکزی خیمہ بستی میں منتقل کر لیں تو پتہ چلا کہ انہیں یہ آفر کی گئی تھی مگر وہ لوگ اپنی مرضی سے یہاں رکے ہوئے ہیں۔ ہمیں یہ دیکھ کر دکھ ہوا کہ سب کچھ ملنے کے باوجود انسان کتنا ناشکرا ہوجاتا ہے۔

وہاں سے فارغ ہو کر ہم کوٹ مٹھن شریف میں واقع حضرت خواجہ غلام فرید رحمۃ اللہ علیہ کے مزار کی طرف عازم سفر ہوئے۔ دربار شریف پر حاضری کے موقع پر منہاج یوتھ لیگ فیصل آباد کے دلنشیں آواز رکھنے والے نعت خواں محمد اویس رضا کموکا نے خواجہ غلام فرید کا کلام پڑھا، جسے سن کر حاضرین کا جھمگٹا لگ گیا۔
سجادہ نشین حضرت خواجہ معین الدین کوریجہ سے ملاقات، تعارف سن کے بولے آپ تو میرا خاندان ہیں، فردا فردا سب سے گلے ملے اور یوں گھل مل گئے کہ جیسے ہمارا ان سے ایک عرصہ سے تعلق ہو۔ بعد ازاں مزار اقدس کے قریب واقع میوزیم دیکھا جہاں حضرت خواجہ غلام فرید سے منسوب تبرکات، ٹوپی، تسبیح، تصانیف، قلم، خطوط، و دیگر زیر استعمال اشیاء زائرین کے لئے محفوظ ہیں۔

شام 7 بجے لاری اڈے سے واپس فیصل آباد کی طرف روانہ ہوئے۔ واپسی پر تونسہ شریف کے قریب موسلادھار بارش ہوئی اور کوٹ ادو تک سیلاب کا منظر دکھائی دیتا رہا۔ 13 ستمبر کی صبح 6 بجے یہ سفر اپنے اختتام کو پہنچا۔