تحریک منہاج القرآن کے قائدین نے عید الفطر سیلاب متاثرین کے ساتھ گزاری

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی ہدایت پر تمام مرکزی قائدین اور رضا کاران نے عید الفطر متاثرین سیلاب کے ساتھ منائی۔ اس سلسلہ میں مرکز سے مردوں کے 4 اور خواتین کا ایک وفد تشکیل دیا گیا۔ ایک وفد جنوبی پنجاب اور سندھ کے متاثرین کے ساتھ عید منانے کے لیے روانہ ہوا جس کی قیادت شیخ زاہد فیاض سربراہ فلڈ ریلیف کمیٹی کر رہے تھے جبکہ وفد میں ساجد محمود بھٹی (سینئر نائب ناظم تنظیمات)، افتخار شاہ بخاری (ناظم ویلفیئر)، یاسر فاروق (آسٹریلیا)، شفیق الرحمن سعد (ناظم منہاج پروڈکشن)، محمد عامر یوسف، محمد الیاس ڈوگر، خرم خالد، عمران شوکت اور میاں افتخارحسین بھی شامل تھے۔

وفد 8 ستمبر 2010ء کو لاہور سے روانہ ہوا اور رات کا قیام ملتان میں کیا گیا۔

وفد 9 ستمبر 2010ء صبح ملتان سے روانہ ہوا اور اس کا پہلا پڑاؤ مظفر گڑھ تھا۔ جہاں مرکزی کیمپ کا دورہ کروایا گیا۔ اس موقع پر وفد کو بتایا گیا کہ منہاج خیمہ بستیوں میں 2000 خاندان منہاج ویلفیئر فاونڈیشن کی زیر کفالت ہیں۔ تمام خاندانوں کی رجسٹریشن کی گئی ہے، سپیشل عید گفٹ تیار کیے گئے اور مقامی کارکنان اور دیگر رضا کاران کی ٹیمیں تشکیل دے کر متاثرہ علاقوں میں عید پیکج کی تقسیم کے لیے روانہ کیا گیا۔ سہ پہر تین بجے وفد ڈی جی خان، جام پور اور فاضل پور سے ہوتا ہوا راجن پور پہنچا۔

راجن پور پہنچنے پر سردار شاکر خان مزاری نے وفد کو سیلاب سے ہونے والے نقصان اور MWF  کی امدادی سرگرمیوں کی بریفنگ دی اس کے بعد وفد کو شدید متاثرہ یونین کونسلز کا وزٹ کروایا گیا جو کہ تقریباً زمین بوس ہو چکی ہیں۔ وفد کوٹ مٹھن شریف کے نزدیک کوٹلہ نصیر اورکراچی انڈس ہائی وے پر واقع منہاج خیمہ بستی پہنچا۔ جہاں 80 خاندان MWF کے زیرکفالت ہیں۔ مرکزی قائدین نے خیمہ بستی کا دورہ کیا، انتظامات کا جائزہ لیا اور متاثرین اور بالخصوص بچوں اور خواتین میں عید کے تحائف تقسیم کیے۔ اس موقع پر متاثرین نے MWF اور شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے لیے نیک جذبات کا اظہار کیا۔

وفد 10 ستمبر 2010ء کو راجن پور سے روانہ ہوا، سب سے پہلے کوٹ مٹھن شریف حضرت خواجہ غلام فرید  رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر حاضری دی۔ مقامی تنظیم کے ساتھ کوٹ مٹھن شریف اور روجھان کے علاقوں کو دورہ کیا۔ ریلیف کیمپ کا وزٹ کیا اور متاثرین میں عید گفٹ تقسیم کیے۔

اسی شام وفد روجھان سے گڈو (کشمور) سندھ پہنچا۔ مقامی تنظیم کے ساتھ گڈو میں مقیم متاثرین میں راشن، کپڑے اور بچوں میں کھلونے تقسیم کیے گئے۔ ساتھ ساتھ ہر مقام پر مقامی تنظیم کی کاوش کو سراہا گیا اور شیخ زاہد فیاض نے کارکنان کی حوصلہ افزائی کی۔

گڈو سے فارغ ہو کر وفد براستہ اوبارو، ڈھرکی، سکھر، شکار پور کے لیے روانہ ہوا کیونکہ سیلاب کی وجہ سے کشمور سے آگے کندھ کوٹ کے مقام پر انڈس ہائی وے بند تھی اس لیے طویل مسافت کے بعد سپر ہائی وے کے ذریعے رات کو وفد شکار پور پہنچا۔

شکار پور کی منہاج خیمہ بستی میں ابتدائی وزٹ کیا گیا۔ بچوں میں کپڑے اور بڑوں میں راشن تقسیم کیا گیا تا کہ اگلے دن عید سے قبل سامان متاثرین کے پاس ہو۔ مرکزی وفد نے صبح نماز عید بھی شکار پور میں ادا کرنا تھی اور باقی دن بھی شکار پور اور لاڑکانہ میں خیمہ بستی کے اندر گزارنا تھا۔

رات کو سومرو خاندان کے بعض احباب سے ملاقات کروائی گئی جن میں خاص طور پر محمد افضل سومرو اور الہٰی بخش سومرو کے بھتیجے انیل احمد سومرو شامل ہیں۔ انہوں نے اپنے خاندان سمیت تحریک منہاج القرآن میں شمولیت کر کے تاحیات رفاقت کی سند بھی حاصل کی۔ اس موقع پر قائدین نے شکار پور میں تحریک کے کام کو منظم کرنے اور فروغ دینے کے حوالے سے مثبت جذبات کا بھی اظہار کیا۔ محمد افضل سومرو کی جانب سے رات کو ایک چھوٹی سے محفل سماع کا بندوبست بھی کیا گیا تھا۔ اسی رات شکار پور میں تحریک کی تنظیم بنائی گئی جس میں محمد افضل سومرو کو سرپرست تحریک اور انیل احمد سومرو کو صدر تحریک منہاج القرآن شکار پور نامزد کیا گیا۔

11 ستمبر 2010ء کو عید الفطر کے دن مرکزی قائدین نے منہاج خیمہ بستی کے ساتھ واقع عوامی پارک میں نماز عید ادا کی۔ اس کے بعد تمام قائدین نے خیمہ بستی کے باسیوں کے ساتھ عید بھی ملی۔ یہاں افتخار شاہ بخاری نے بچوں میں کھلونے، ساجد محمود بھٹی نے بچوں میں مٹھائی اور کپڑے جبکہ شیخ زاہد فیاض اور یاسر فاروق نے متاثرین میں نقد عیدی بھی تقسیم کی۔ یہاں مرکزی وفد کو ایک فیملی سے ملایا گیا جس کے ہاں ایک بچے کی چند روز قبل ولادت ہوئی تھی۔ خاندان نے بچے کا نام بھی ’’منہاج خان‘‘رکھا۔ اس بچے اور خاندان کو خصوصی تحائف دئیے گئے۔ تمام شرکاء میں کھاناپکا کر تقسیم کیا گیا۔

12 بجے قائدین کا وفد شکار پور سے روانہ ہوا اور اس علاقے کا معائنہ کیا جہاں سے جیکب آباد، ڈیرہ اللہ یار، اوستہ محمد اور بلوچستان کے دیگر علاقہ جات کا زمینی راستہ منقطع ہو گیا ہے اور یہ تمام علاقے زیرآب ہیں۔ گزشتہ 22 دنوں سے سڑک اور ریل کا راستہ بھی بند ہے۔ شیخ زاہد فیاض نے ہدایات جاری کیں کہ اگلے مرحلہ میں ان علاقہ جات کے لیے حکمت عملی تیار کی جائے۔ بعد ازاں مرکزی وفد براستہ نوڈیرو، گڑھی خدا بخش ، لاڑکانہ روانہ ہوا۔ لاڑکانہ خیمہ بستی میں تمام مکینوں کے ساتھ عید لنچ کا بندوبست کیا گیا تھا۔ بعد میں بچوں میں کھلونے، کپرے، مٹھائی اور عیدی تقسیم کی گئی۔ جس پر متاثرین نے انتہائی خوشی اوراعتماد کا اظہار کیا۔

آخر پر تمام تنظیمی کارکنان حفیظ بلوچ، شیخ عبد العزیز اور پنجاب بالخصوص اوکاڑہ سے گئے ہوئے رضا کاران کی حوصلہ افزائی کی گئی۔

منہاج القرآن انٹرنیشنل آسٹریلیا سے یاسر فاروق نے آخر پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بہت سی NGO's کام کے دعوے کرتی ہیں مگر ان کا کام دکھائی نہیں دیتا جبکہ میں نے اپنی آنکھوں سےMWF کا کام دیکھا ہے جو کہ وسیع پیمانے پر ہے اور منظم انداز میں کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا تعاون MWF کے ساتھ جاری رہے گا۔ رات کو مرکزی وفد لاہور کے لیے واپس روانہ ہوا۔