ایجوکیشن پراجیکٹ

کسی بھی ملک کی سربلندی اورترقی کا انحصار اس کی عوام کے تعلیمی اور شعوری تناسب پر ہوتا ہے۔ تعلیم کا بنیادی مقصد ایک متوازن شخصیت کی تشکیل اور نظام تعلیم کا بنیادی مقصد ایک متوازن معاشرے کی تعمیر ہوتا ہے لیکن بد قسمتی سے آج ہمارا ملک شرح خواندگی کے اعتبار سے 178 ویں نمبر پر ہے۔ پاکستان کے مقابلے میں ایشیاء کے بے شمار دیگر ممالک کی پرائمری تعلیم کا تناسب ہم سے کہیں بہتر ہے مثلاً جاپان، سری لنکا اور جنوبی کوریا میں 100 فیصد، انڈونیشاء میں 90 فیصد، تھائی لینڈ 96 فیصد، ایران 95 فیصد، انڈیا 78 فیصد، بنگلہ دیش 62 فیصد شرح خواندگی ہے۔ دوسری طرف پاکستان کی شرح خواندگی سرکاری طور پر 39 فیصد اور غیر سرکاری اعتبار سے 26 فیصد جبکہ یونیسکو کی بین الاقوامی تعریف کے مطابق ہم صرف 17 فیصد شرح خواندگی رکھتے ہیں۔

پاکستان شرح خواندگی کے اعتبار سے بیشتر افریقی ممالک سے بھی بہت پیچھے ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ کسی ملک نے اس وقت تک ترقی نہیں کی جب تک اس ملک میں شرح خواندگی کم سے کم 40 فیصد تک نہیں پہنچ گئی۔ انگلستان میں صنعتی انقلاب اس وقت شروع ہوا۔ جب وہاں پڑھے لکھے افراد کی تعداد 40 فیصد تک ہو گئی۔ فرانس میں انیسویں صدی کے وسط میں شرح خواندگی انگلستان کے مقابے میں زیادہ تھی اور یہ ہی فرانس کی ترقی کا زمانہ تھا۔ امریکہ کے قومی ا ثاثوں میں 21 فیصد اضافہ تعلیم کی وجہ سے ہوا۔ جاپان کی قومی دولت میں تعلیم کی وجہ سے ہر سال 25 فیصد اضافہ ہو رہا ہے۔

 درج بالا حقائق اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ پاکستان کو اپنی سماجی اور معاشی ترقی کے حصول کے لیے تعلیم کے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کرنا پڑے گا معاشرتی ترقی کا تصور تعلیمی ترقی کے بغیر ناممکن ہے۔ یہ بات مسلمہ حقیقت ہے کہ امت مسلمہ نے تقریباً بارہ سو سال تک طویل عرصہ دنیا پر حکمرانی کی جس کا واحد سبب اس کا علمی تفوق تھا سیاسی زوال کے بعد مغربی استعمار نے مسلمانوں کے نظام تعلیم کو خاص طور پر اپنا ہدف بنایا۔ ہمارے نظام تعلیم کو دینی مدارس اور جدید تعلیمی اداروں کے دو دائروں میں تقسیم کر دیا گیا اور مزید کسر لارڈ میکالے نے پوری کر دی جب جدید تعلیمی اداروں کے ذریعے ذہنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کی بجائے غلام قوم تیار کرنے کے لیے نو آبادیاتی نظام تعلیم رائج کر دیا گیا۔ استعمار سے آزادی حاصل کرنے کے بعد اکثر مسلم ممالک میں احیاء اسلام کی کاوشیں شروع ہوئیں۔ تو علمی محاذ پر بھی مختلف شخصیات نے قابل قدر خدمات سرانجام دیں۔ اس سلسلے میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی سرپرستی میں امت مسلمہ کی راہنمائی کے تعلیم کا شعبہ بھی خاص طور پر قابل ذکر ہے۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے نظریہ کے مطابق اس قوم کے تمام مسائل (بے روزگاری، نشہ، انتہا پسندی، دہشت گردی، فساد، گھریلو ناچاقی، بنیادی انسانی حقوق کی پامالی، چوری ڈکیتی) کا اصل سبب ایک ہے۔ وہ صرف جہالت ہے۔ ان تمام مسائل کا حل صرف فروغ تعلیم سے ممکن ہے۔ اس لیے ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کا اعلان ہے" سرسید احمد خان نے قوم کو ایک علی گڑھ دیا تھا میں ان شاء اللہ اس قوم کو 100 علی گڑھ دوں گا"

اسی لیے منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن نے فروغ تعلیم کے لیے ایک ایسے منصوبہ کا آغاز کیا ہے جس سے لوگوں کے اندر شعور بیدار کیا جاسکے، ان کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر علم کے نور سے منور کیا جاسکے۔ غریب مگر ہونہار طلبہ کی تعلیم کے لیے سکالر شپ کا انتظام کیا جاسکے اور نادار بچوں کو مفت کتابیں فراہم کی جاسکیں۔

1۔ فروغ تعلیم کے اداروں کا قیام :

اس کے لیے منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے تحت ملک بھر میں تعلیمی اداروں کا ایک جال بچھا دیا گیا ہے تقریباً 9 سال کی کم مدت میں ملک بھر میں 572 سکولز اور 41 کالجز قائم کر دیئے گئے ہیں۔ جن کی اجمالی تفصیلات درج ذیل ہیں۔

تعلیمی منصوبہ

سطح تعداد سکولز قیام فی سکول (اوسط) قیام پر کل خرچ توسیع پر اخراجات طلبہ کی فیس رعایت کل خرچ
منہاج پبلک سکولز 319 75,000 2,39,25,000 3,95,56,000 1,60,00,000 8,94,81,000
منہاج ماڈل سکولز 253 1,50,000 3,79,50,000 5,06,00,000 2,13,00,000 10,98,50,000
منہاج آئی ٹی کالجز 17 3,00,000 1,23,00,000 2,05,00,000 86,00,000 4,14,80,000
کل 589   7,41,75,000 11,06,56,000 5,59,00,000 24,07,31,000

خصوصیات :

  1. ان تعلیمی اداروں کے قیام کے لیے تمام تر وسائل منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن اور اس کے معاونین اور تنظیمات فراہم کرتی ہیں۔
  2. ان تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم کم ازکم 25 فیصد غریب مگر ہونہار طلبہ کے اخراجات منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن برداشت کرتی ہے۔
  3. مستحق اور نادار طلبہ کو سکول کی کتابیں بھی مفت فراہم کی جاتی ہیں۔
  4. تعلیمی میعار برقرار رکھنے کے لیے تمام کلاسز کے سالانہ امتحانات منہاج ایجوکیشن بورڈکے تحت لیے جاتے ہیں اور اس بورڈ کے تحت نتائج کا اعلان کیا جاتا ہے۔
  5. ان تعلیمی اداروں کا مقصد تعلیم برائے تعلیم نہیں ہے صرف ڈگریوں اور اسناد کا جاری کرنا نہیں بلکہ اس کا بنیادی مقصد طالب علم کو ایک مثبت سوچ کا حامل مسلمان اور ایک اچھا شہری بنانا ہے۔
  6. ان اداروں میں طلبہ کی روحانی اور اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔

سٹوڈنٹ ویلفیئر بورڈ

پاکستان میں تعلیم کو کبھی بھی پالیسی سازوں نے اولین ترجیحات میں شامل نہیں کیا۔ بالادست طبقات کو اس امر سے کوئی دلچسپی ہی نہیں جس کا ثبوت ہمارا قومی بجٹ ہے۔ جس میں بہت تھوڑی رقم تعلیم کے لیے مختص کی جاتی ہے۔ 1972ء میں پہلی مرتبہ حکومت نے تعلیمی پالیسی دی اور پرائمری تعلیم کو مفت قرار دیا لیکن یہ پالیسی بیورو کریسی کی نظر ہو گئی۔ پرائیویٹ سکولوں کی اجازت کے بعد تعلیم بہت زیادہ مہنگی ہو گئی۔ 1991ء میں شعبہ تعلیم میں تبدیلیاں لانے کی کوشش کی گئی اور "اقراء سرچارج" کی رقم 10 ملین تک پہنچ گئی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یہ رقم تعلیمی شعبے کی بہتری کے لیے استعمال کی جاتی مگر ملک کے پالیسی سازوں نے اس رقم کو دوسرے مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا۔

ان حالات میں منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن نے ایسے نادار طلبہ کے لیے جو پڑھائی میں انتہائی بہترین ہیں لیکن مالی وسائل نہ ہونے کی وجہ سے ان کے لیے تعلیم کا حصول مشکل بلکہ ناممکن ہو جاتا ہے۔ ایسے طلبہ کے لیے سکالر شپ کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اس مقصدکے لیے منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے زیراہتمام سٹوڈنٹ ویلفیئر بورڈ (SWB) بنایا گیا ہے۔ اس کے تحت ثانوی اور اعلیٰ تعلیم کے لیے طلبہ کو وظائف دیئے جاتے ہیں اس وقت تک اس بورڈ کے تحت سکالر شپ لینے اور لینے کے بعد تعلیم مکمل کرنے والے طلبہ کی تعداد درج ذیل ہے۔


1 حفظ قرآن 726
2 میٹرک 510
3 بی۔ اے 552
4 ماسٹر 199
5 پروفیشنل کورسز 08
6 پی ایچ ڈی 02
ٹوٹل   1997

اس پر اب تک کل لاگت 2 کروڑ 22 لاکھ 69 ہزار روپے آئی ہے۔ اس سے 1997ء طلبہ و طالبات مستفید ہوئے۔ اس وقت 187 طلبہ کو فیس معافی کی سہولت حاصل ہے۔ منہاج ایجوکیشن سوسائٹی کے تحت سکولوں میں دیئے جانے والے سکالر شپ اس میں شامل نہیں ہیں۔ اور نہ ہی کالجز کی طرف سے دی جانے والی رعایت شامل ہے۔ جو کہ لاکھوں روپے بنتی ہے۔

طریقہ کار :

اس پراجیکٹ کے تحت طلبہ سے باضابطہ مخصوص فارم پر درخواست وصول کی جاتی ہے اور طالب علم کی تعلیمی کارکردگی، معاشی حالت غیر نصابی سرگرمیوں میں شرکت کی بنیاد پر میرٹ بنایا جاتا ہے اور صرف میرٹ پر آنے والے طلبہ کو ہی سکالر شپ دیا جاتا ہے ہر بچہ کسی ایک ڈونر کے ساتھ منسوب ہو جاتا ہے اکثر ڈونر از خود بچے کے اخراجات برداشت کرتے ہیں اور اس ڈونر کو بچے کی تعلیمی کارکردگی سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ سکالر شپ سالانہ بنیادوں پر دیا جاتا ہے اور صرف ان طلبہ کو اگلے سال میں سکالرشپ دیا جاتا ہے جو تعلیمی معیار پر پورا اتریں۔ ڈونر کی سہولت کے لیے سٹوڈنٹس سکالرشپ کے درج ذیل پیکج بنائے گئے ہیں۔ اگر کوئی بھی فرد کسی بچے کو سپانسر کرنا چاہے تو کسی پیکج کو چن کر ڈونیشن (عطیہ) منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے اکاؤنٹ میں جمع کروا کر باضابطہ ڈونر بن سکتا ہے۔ اس ڈونر کو حسب ضابطہ طالب علم کے کوائف اور کارکردگی سے آگاہ رکھا جائے گا۔

سٹوڈنٹ سپانسر پیکج :

تعلیمی درجہ تفصیل ماہانہ خرچ بمعہ قیام وطعام سالانہ خرچ بمعہ قیام وطعام کوس کا کل خرچ کیفیت
حفظ قرآن پرائمری کے بعد (1 + 3 سال) 2000 24,000 96,000 دوران کورس طلبہ وطالبات کو قرآن حفظ کے ساتھ مڈل بھی کروایا جاتا ہے
سکینڈری سکول چھٹی تا میٹرک (5 سال) 2000 24,000 120,000 کلاس 6 تا 10 تک تعلیمی بورڈ کی رسمی تعلیم دی جاتی ہے۔
ڈگری کالج ایف اے تا بی اے ( 4 سال) 2500 30,000 120,000 میڑک پاس طلبہ و طالبات کو BA تک تعلیم دی جاتی ہے۔
 ڈبل MA (شہادۃ العالمیہ) ایف اے تا ایم اے (7 سالہ کورس) 3000 36,000 2,25,000 میڑک پاس طلبہ و طالبات کو MA اور شہادۃ العامیہ کروایا جاتا ہے یہ ڈگری HEC سے باقاعدہ منظور شدہ ہے۔
I.com دوسالہ کورس 3000  36,000 72,000 میڑک کے بعد دوسالہ کورس
Fsc دوسالہ کورس 3000 36,000 72,000 میٹرک کے بعد دوسالہ کورس
B.com دوسالہ کورس 5000 60,000 1,20,000 I.com کے بعد دوسالہ کورس

نوٹ : مندرجہ بالا کورسز منہاج القرآن کے مرکزی تعلیمی اداروں واقع ٹاون شپ لاہور میں کروائے جاتے ہیں۔ جہاں پر طلبہ وطالبات کے لیے علیحدہ علیحدہ تحفیظ القرآن انسٹیٹیوٹ، ماڈل سکول اور کالجز موجود ہیں۔ جن میں اخلاقی اور روحانی تربیت کا خاص اہتمام ہے۔ اس کے علاوہ انجینئرنگ یونیورسٹی اور میڈیکل کالجزاور دیگر تعلیمی ادارہ جات کے مستحق طلبہ وطالبات کو case to case ڈیل کیا جاتا ہے۔ اور حسب ضابطہ ان کی مدد کی جاتی ہے۔